خطبات محمود (جلد 17) — Page 470
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ قدموں پر نہ گر جائے اس کا تعلق دیکھ کر تو ہر ذرہ آگے بڑھتا ہے کہ اس انسان کے قدموں پر شار ہو کر خدا تعالیٰ کی نظروں میں جگہ پائے۔پس سچا مذہب حاصل کر کے انسان ساری دنیا کو حاصل کر سکتا ہے اور مذہب کے آنے سے سب باتیں آجاتی ہیں۔چنانچہ رسول کریم لے کے ذریعہ یہ باتیں جو صحابہ کرام کو حاصل ہوئیں تو انہوں نے دنیاوی طور پر حاصل نہیں کیں بلکہ دنیا مذہب کے تابع ہو کر انہیں ملی مگر اس کیلئے ایمان کامل ضروری ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کو جذب کرے۔مثلاً ایک شخص جسے کامل ایمان حاصل ہو وہ کس طرح اعلیٰ اخلاق کو چھوڑ سکتا ہے اور اگر اخلاق کے سارے شعبے انسان اختیار کرے اور ان پر عمل کرے تو سچائی ، دیانت، امانت ، تقویٰ اور طہارت سبھی کچھ اسے حاصل ہوگا اور ان کا لازمی نتیجہ علم، ہنر، ہوشیاری اور محنت ہوگا اور ایسے شخص کو لا زمانی دنیا بھی حاصل ہو جائے گی۔پس مؤمن کو سب سے زیادہ توجہ روحانی تعلق کی طرف کرنی چاہئے ان لوگوں کی طرح نہیں جو آجکل سمجھتے ہیں کہ منہ سے اقرار کافی ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت زبان کی نہیں ہو سکتی بلکہ دل سے ہی ہوسکتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو پھر انسان ہر شے پر قبضہ کر لیتا ہے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ منہ کی تھوک سے یا ایک قطرہ سے پہاڑ ڈھک جائیں مگر بادلوں سے ڈھک جاتے ہیں۔اسی طرح اگر دل سے محبت کا دھواں اُٹھے تو اس سے اہم نتائج پیدا ہوں گے مگر جو منہ سے دعوی کرتا ہے وہ پاگل ہے اسے نہ دین ملے گا نہ دنیا۔مؤمن کو کامل بنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ کسی نے کہا ہے ع کسب کمال گن که عزیز جہاں شوی جب تک کوئی انسان کمال حاصل نہ کرے انعام نہیں مل سکتا۔مذہب میں داخل ہونے سے بھی کمال ہی فائدہ دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ آجکل ہم سے فائدہ وہی اُٹھاتے ہیں جو گہرا تعلق رکھتے ہیں یا تو پوری مخالفت کرنے والے مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ دوسرے چھوٹے چھوٹے مولویوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں یا کامل اخلاص رکھنے والے۔ادنی تعلق فائدہ نہیں دیتا۔اصل میں کمال ہی سے فضل ملتا ہے بغیر اس کے انسان فضل سے محروم رہتا ہے۔اگر انسان ہر چہ بادا باد کشتی ما در آب انداختیم “ کہہ کر خدا تعالیٰ کی طرف چل پڑے تو اُس کے ساتھ بھی پہلوں کا سا معاملہ ہوگا۔آخر خدا تعالیٰ کوکسی سے دشمنی نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ