خطبات محمود (جلد 17) — Page 46
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۷ سال ۱۹۳۶ء پیشگوئی پوری ہو کہ جماعت احمد یہ دنیا پر غالب آکر رہے گی۔ پس تم میں سے وہ لوہار جو اِس لئے آہن گری کے کام میں سب دنیا سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتا ہے کہ جماعت احمد یہ کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ دنیا پر غالب آئے گی اور وہ چاہتا ہے کہ اس پیشگوئی کے پورا کرنے میں وہ بھی حصہ لے تو وہ آہن گری میں ترقی نہیں کر رہا بلکہ عبادت کر رہا ہے۔ تم میں سے وہ انجینئر جو اس لئے انجینئر نگ کے کام میں ترقی کر کے سب دنیا کو مات کرنا چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مسیح کی جماعت کے دنیا پر غالب آنے کی پیشگوئی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کے پورا کرنے میں وہ بھی حصہ لے تو وہ انجینئر نگ نہیں لے رہا بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں حصہ لے رہا ہے۔ اسی طرح تم میں سے وہ زمیندار جو اس نیت اور ارادہ کے ساتھ اپنی پیداوار کو بڑھاتا ہے کہ جماعت احمد یہ کے متعلق پیشگوئی ہے کہ سب دنیا پر یہ غالب آئے گی اور وہ چاہتا ہے کہ وہ بھی اس کے پورا کرنے میں حصہ لے تو وہ زمینداری میں ترقی نہیں کر رہا بلکہ دین میں ترقی کر رہا ہے۔ پس ہر پیشہ، ہرفن اور ہر ہنر میں ترقی کرو اور ملکوں اور علاقوں کی حد بندیوں سے آزاد ہو جاؤ کہ مؤمن کسی ملک اور علاقہ کی قید میں مقید نہیں ہوتا۔ پھر تم دیکھو گے کہ اُس کے فضل تم پر کس طرح نازل ہوتے ہیں۔ یہ ہماری غفلتیں تھیں جو ان فتنوں کو ہمارے لئے لائیں اور ہماری ہی غفلتیں ہوں گی جو پھر ان فتنوں کے دوبارہ لانے کا موجب بنیں گی ورنہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کی آنکھیں کھولنے کیلئے بہت کافی سامان کر دیا ہے۔ اگر جماعت اب بھی اس شدید حملہ کو بھول جاتی ہے تو وہ اپنی بے غیرتی اور ہا ہے ۔ اگر جماعت اب بے حمیتی کا افسوسناک مظاہرہ کرتی ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کو بے غیرتی کے مرض سے بچائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اپنے ہاتھوں سے ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے بنیں جو جماعت احمدیہ کی ترقی کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیں اور اللہ تعالیٰ نہ صرف ہمارے بلکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے حوصلے اور اُن کی ہمتوں میں بھی اس قدر برکت دے کہ ساری دنیا کے حوصلے اور ہمتیں ان کے سامنے ہیچ ہو جائیں ۔ دنیا ہمارا گھر ہے۔ پس جس طرح خدا تعالیٰ کے گھر یعنی مساجد میں چھوٹے اور بڑے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا سے تمام امتیازات کو مٹا دیں تا پھر خدا تعالیٰ کا نام دنیا میں بلند ہو اور اُس کی