خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 457

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۴۸ سال ۱۹۳۶ء سرٹیفکیٹوں پر ہو گیا اور باوجود شراب نوشی کے خلاف قانون بن جانے کے لوگ کئی قسم کے حیلوں سے کوشش کرتے کہ کسی طرح قانون شکنی کریں لیکن محمد ﷺ کا بتایا ہوا قانون ابھی رائج نہ ہوا تھا ، ابھی لوگ اس سے ناواقف تھے ، صرف پہلا اعلان ہوا تھا کہ لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ دیئے اور لکھا ہے کہ مدینہ کی گلیوں میں شراب بہتی پھرتی تھی یہ کتنا بڑا فرق ہے جو ہمیں نظر آتا ہے۔ امریکہ والوں کا دعوی ہے کہ اب نئی ترقی یافتہ نسل انہی کے ذریعہ دنیا میں قائم ہوگی ، وہ دنیا میں سپر مین یعنی ترقی یافتہ نسلِ انسانی کہلاتے ہیں اور عام انسانوں سے اپنے آپ کو بالا سمجھتے ہیں لیکن باوجود اس بات کے کہ وہ محسوس کرتے ہیں شراب بُری چیز ہے، باوجود اس کے کہ قانون شراب پینے سے انہیں روکتا ہے، باوجود اس کے کہ حکومت انہیں منع کرتی ہے اور باوجود اس کے کہ ڈاکٹر بھی کہتے ہیں کہ شراب پینا بُری چیز ہے وہ شراب نہیں چھوڑ سکتے ۔ ادھر وہ قوم ہے جسے ۔ جاہل کہا جاتا ہے، جسے جانگلی کہہ کر پکارا جاتا ہے اور جسے ان پڑھ کہا جاتا ہے اس کے اندر ہمیں اس قدر اخلاقی قوت نظر آتی ہے کہ وہ جو نہی سنتے ہیں کہ محمد ﷺ نے شراب سے منع کیا ہے اُسی لحظہ الله شراب پینا ترک کر دیتے ہیں ۔ یہ وہ ایمان ہے جس نے صحابہ کو ممتاز کیا ۔ امریکہ کے لوگوں کے صلى الله مامنے صرف قانون تھا لیکن محمد ﷺ کے صحابہ کے سامنے سامنے ایمان تھا اسی وجہ سے امریکہ باوجود یہ تسلیم کرنے کے کہ شراب بُری چیز ہے اسے چھوڑنے میں ناکام رہا اور صحابہ باوجود ان پڑھ ہونے کے شراب کے چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے ۔ غرض اگر کسی انسان کے اندر مضبوط قوت ارادی ہو تو ساری روکیں خود بخود اس کے رستہ سے دور ہو جاتی ہیں ۔ ۔ اس کے بعد قوت علمی ہے ۔ اگر قوت علمی کسی میں ہو تو عمل کی جو کمزوری علم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے وہ بھی دور ہو جاتی ہے ۔ جیسے بچے بچپن میں مٹی کھانے کے عادی ہوتے ہیں لیکن جب بڑے ہوتے ہیں تو مٹی کھانا چھوڑ دیتے ہیں اس لئے نہیں کہ انہیں اس بات کا علم حاصل ہو جاتا ہے کہ مٹی کھا نا مُضر صحت ہے۔ یا بعض چھوٹے بچے جب ان کا ناک بہہ رہا ہو تو زبان سے اُسے چاہتے رہتے ہیں لیکن بڑے ہو کر نہیں چاٹتے کیونکہ بعد میں انہیں اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ یہ معیوب بات ہے۔ تو کئی گناہ اور کئی عملی کمزوریاں ایسی ہیں جو علم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں اگر ایسے شخص کا علم مضبوط کر دیا جائے تو وہ گناہ سے بچ جاتا ہے۔