خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 445

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۳۶ سال ۱۹۳۶ء ضرور ہے۔ یا تو یہ کہ عمل کیلئے جتنی قوت ارادی چاہئے اُتنی ہمارے اندر نہیں لیکن عقیدہ کی اصلاح کیلئے جتنی قوت ارادی کی ضرورت تھی وہ ہم میں موجود تھی اس وجہ سے عقائد کی اصلاح ہو گئی لیکن عملی اصلاح کیلئے چونکہ قوت ارادی کی ضرورت تھی اور وہ ہمارے اندر نہیں تھی اس لئے ہم اعمال کی اصلاح میں کامیاب نہ ہو سکے اور یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ ہماری عبودیت میں کچھ نقص ہے اور قوت متاثرہ مفلوج ہونے کی وجہ سے قوت مؤثرہ کے اثر کو قبول نہیں کرتی یا جن معاونوں کی اُسے ضرورت ہوتی ہے ان میں کمزوری ہے۔ اس صورت میں جب تک ہم قوت متاثرہ کا علاج نہ کر لیں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ جیسے کوئی طالب علم کند ذہن ہوتا ہے وہ سبق پڑھتا ہے مگر یاد نہیں رکھ سکتا اس کا جب تک ذہن درست نہیں کر لیا جا تا اُس وقت تک خواہ اُسے کتنا سبق دیا جائے ، کتنی بار نے کی کوشش کی جائے وہ یاد نہیں رکھ سکے گا۔ پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمارے نیکی کے ارادے دماغ کے اس حصہ پر کیوں اثر نہیں کرتے جس پر اثر ہونے کے نتیجہ میں عملی اصلاح شروع ہو جاتی ہے اور ہمیں ان روکوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اس رستہ میں حائل ہوتی ہیں ۔ میں نے بتایا تھا کہ دو قسم کی روکیں ہیں جو اس رستہ میں حائل ہوتی ہیں ۔ ایک قوت ارادی میں کمزوری اور دوسری قوت عمل میں کمزوری لیکن ان کے علاوہ ایک تیسری صورت بھی ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اور جو دونوں طرف اپنا اثر ڈالتی ہے اور وہ یہ کہ علمی طور پر انسان میں کمزوری ہو کیونکہ ارادہ بھی علم کے مطابق چلتا ہے ۔ مثلاً اگر کسی انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ ایک ہزار کا لشکر اُس کے مکان پر حملہ آور ہونے والا ہے بلکہ اُسے صرف اتنا معلوم ہو کہ ایک آدمی اس کے مکان پر حملہ کرے گا تو یقیناً جو تدابیر وہ اس حملہ کے دفاع کیلئے اختیار کرے گا وہ اس صورت سے جو مختلف ہوں گی جو اس صورت میں کرتا جب اُسے معلوم ہوتا کہ ایک ہزار آدمی اس کے مکان پر حملہ آور ہونے والے ہیں ۔ تو علم کی کمزوری کی وجہ سے بھی نقص پیدا ہو جاتا ہے اور علم کی صحت قوت ارادی کو بڑھا دیتی ہے۔ جن لوگوں کو کبھی بوجھ اُٹھانے کا موقع ملا ہو وہ جانتے ہیں کہ بعض چیزیں ہلکی نظر آتی ہیں مگر ہوتی بوجھل ہیں ان کے اُٹھاتے وقت انسانی ہاتھ جھٹکا محسوس کرتا ہے ۔ پہلے یہ سمجھ کر وہ ہاتھ ڈالتا ہے کہ یہ ہلکی چیز ہے مگر جب دیکھتا ہے کہ بھاری ہے تو کہتا ہے اوہ ! یہ تو بھاری چیز تھی اور اس خیال کے آنے پر دوبارہ وہ اسی بھاری چیز کو اُٹھا لیتا ہے۔ آخر دوبارہ اس اور