خطبات محمود (جلد 17) — Page 416
خطبات محمود ۴۱۶ سال ۱۹۳۶ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ احمدی نجس ہیں اور ہم پاک ہیں در حقیقت وہ اپنی تعداد اور طاقت کے بل پر ایسا کہہ رہے ہیں۔ان سے کوئی پوچھے کہ دنیا میں جو نجاست یا طہارت ہوتی ہے وہ قبرستان کے کتنے فاصلہ تک انسان کے ساتھ جاتی ہے۔اس قبرستان کی مثال بہشتی مقبرہ کی تو ہو نہیں سکتی جس کی میں دفن ہونا بعض خاص اعمال کے ساتھ وابستہ ہے اور پھر اس کے بارہ میں بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کی زمین پاک نہیں کرتی بلکہ وہ شرائط پاک کرتی ہیں جو تقوی اور قربانی کے متعلق اس میں دفن ہونے والوں کیلئے مقرر ہیں۔پس یہ زیر بحث قبرستان عام قبرستانوں کے مشابہہ ہے۔پس عام قبرستانوں کی حالت کو مدنظر رکھ کر ان لوگوں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ وہاں جا کر کونسی پاکیزگی حاصل ہو جاتی ہے۔سب قبریں تو خدا کی زمین میں ہیں اور اس زمین میں بہر حال احمدی دفن ہوتے رہیں گے۔اس لئے احرار کو چاہئے کہ خدا کی زمین کے سوا کوئی اور جگہ اپنی قبروں کیلئے تلاش کریں یا فیصلہ کرلیں کہ پارسیوں یا ہندوؤں کی طرح اپنے مُردوں کا خاتمہ کیا کریں۔کیونکہ اس زمین میں تو احمدیوں نے بھی دفن ہونا ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا زندگی میں پاکیزگی اور طہارت کا اور معیار ہے اور موت کے بعد اور؟ زندگی میں انسانی روح جسم کے اندر ہوتی ہے اس لئے ہم بد صحبت سے لوگوں کو روکتے ہیں اور بُرے لوگوں کے پاس نہیں بیٹھنے دیتے کیونکہ زندگی ایک مدرسہ ہے اور سیکھنے کا زمانہ ہے۔دماغ سوچتا ہے اور کان دوسرے سے بُری باتیں سنتے ہیں اور انسان وہ باتیں سن کر ان کی نقل کر سکتا ہے۔آنکھیں دیکھتی ہیں اور اس لئے بُرے لوگوں کے پاس بیٹھ کر ان کے بُرے کاموں کو دیکھ کر انسان ان کے عادی ہو سکتے ہیں کیونکہ روح کا جسم سے تعلق موجود ہوتا ہے لیکن جب روح جسم سے جدا ہو جائے تو پھر جسم خواہ کہیں پڑا رہے اور اچھے اور بُرے لاشوں کے اکٹھے پڑا رہنے میں کوئی حرج نہیں ہوسکتا۔خدا کا زلزلہ کوئٹہ میں آیا اور انہی مکانوں کی چھتوں کے نیچے کنچنیاں دب گئیں اور انہی کے نیچے نمازی اور نیک لوگ، مسلمان بھی وہیں پڑے رہے اور غیر مسلم بھی ، خدا نے تو کوئی فرق نہ کیا بلکہ سب کو ایک ہی جگہ دفن کر دیا۔یہ نہیں کیا کہ نیک اور بزرگ لوگوں کو الگ کر لیا ہو اور کچنوں اور بدکاروں کو الگ۔خدا تعالیٰ کے ماننے والے اور اس کو گالیاں دینے والے بد کار اور نیکو کا رسب وہیں دفن تھے۔اس خدائی قبرستان میں کوئی امتیاز نہ تھا ہاں اگر اس نے کوئی