خطبات محمود (جلد 17) — Page 411
خطبات محمود ۴۱۱ سال ۱۹۳۶ء کھڑی کرلوں گا اور تم سے اس بے تکلفی سے باتیں کروں گا جیسے تم میرے پرانے دوست ہو۔تم بھی میری باتوں کے جواب میں بے تکلفی سے بات چیت کرنا اور گھبرانا نہیں۔چنانچہ جب جلوس نکلا قاضی القضاۃ اپنے دوستوں سمیت چبوترے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔یہ دیکھ کر تا جر بھی ایک کونے میں کھڑا ہو گیا۔جب بادشاہ کی سواری وہاں سے گزری تو اُس کے دل میں ارادہ تو پہلے سے ہی تھا تاجر کی شکل دیکھتے ہی اُس نے اپنا گھوڑا روک لیا ساتھ ہی تمام لوگ جو بازاروں میں ایک جلوس کی صورت میں چل رہے تھے کھڑے ہو گئے اور قاضی کی طرف متوجہ ہوئے بغیر بادشاہ نے تاجر سے نہایت بے تکلفی سے گفتگو شروع کر دی اور کہا آپ مدت سے ہمیں نہیں ملے کیا بات ہے؟ تاجر کہنے لگا حضور! میں باہر تجارت کیلئے گیا ہوا تھا۔بادشاہ پوچھنے لگا اچھا پھر کب آئے۔تاجر کہنے لگا حضور ! چند دن ہو گئے ہیں۔بادشاہ نے کہا ہمارے تمہارے اتنے گہرے تعلقات ہیں جب تمہیں یہاں آئے ہوئے چند دن ہو گئے ہیں تو ہم سے ملے کیوں نہیں ؟ وہ کہنے لگا حضور ! بندہ آپ کا غلام ہے میں تو چاہتا تھا کہ جلدی حضور سے ملاقات ہو مگر کچھ روپیہ کا جھگڑا پیدا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے پریشانی رہی وہ جھگڑا ابھی تک جاری ہے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔بادشاہ کہنے لگا یہ کونسی بڑی بات تھی فیصلہ بھی تو آخر ہم نے ہی کرنا ہوتا ہے تم ہمیں بتاتے اور ہم اُسی وقت روپوں کے جھگڑے کا فیصلہ کر دیتے۔وہ کہنے لگا حضور! کی بڑی مہربانی ہے اگر تسلی بخش فیصلہ نہ ہوا تو پھر حضور کو تکلیف دینی پڑے گی۔اب اِدھر بادشاہ تاجر سے گفتگو کر رہا تھا اور اُدھر قاضی القضاۃ کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔یہ گفتگو کرنے کے بعد جب بادشاہ کی سواری آگے نکل گئی تو قاضی القضاة تاجر کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا میاں تاجر ! ذرا ادھر آؤ مجھے تم سے ایک کام ہے۔وہ تاجر آیا تو قاضی کہنے لگا کہ اصل بات یہ ہے کہ میں بڑھا ہو گیا ہوں جس کی وجہ سے میرا حافظہ بہت کمزور ہے تم اپنی تفصیلی کا کوئی اتا پتہ بتاؤ ممکن ہے کوئی نشانی بتاؤ تو مجھے یاد آ جائے۔اُس نے وہی باتیں بتائیں جو پہلے بتا چکا تھا کہ اس رنگ کی تھیلی ہے، فلاں مجلس سے میں نے آپ کو علیحدہ بلا کر یہ تھیلی پیش کی تھی۔قاضی کہنے لگا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔یہ علامتیں تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتا ئیں وہ تھیلی تو محفوظ پڑی ہے۔پس اگر بادشاہ کے ساتھ ہونے سے سارے لوگ ساتھ ہو جاتے ہیں تو کیا تم سمجھتے ہو ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہو تو دنیا ہمارا مقابلہ کر سکتی ہے؟ دنیا ہرگز ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی۔نہ ضلع