خطبات محمود (جلد 17) — Page 412
خطبات محمود ۴۱۲ سال ۱۹۳۶ء گورداسپور کی حکومت ، نہ پنجاب کی حکومت اور نہ ولایت کی حکومت اور نہ ساری دنیا کی حکومتیں ملکی کر ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔پس آؤ ہم اپنے خدا کو خوش کریں اور ہماری تمام تر توجہ اس طرف ہو کہ ہم اس کے احکام پر عمل کریں پھر چاہے احراری ہوں یا حکومت کے کارندے کوئی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پس تم خدا کے ہو جاؤ اور اُسی پر توکل کرو۔یہ سب سے بڑی نعمت ہے جو کسی انسان کو دنیا میں حاصل ہو سکتی ہے۔اگر یہ نعمت تمہیں حاصل نہیں تو پھر قید سے چھٹ جانا ایک معمولی بات ہے، قبرستان کا مل جانا ایک معمولی بات ہے بلکہ اگر حکومتیں تمہاری ہوں، پارلیمنٹیں تمہاری ہوں ، قانون تمہارے ہوں، تخت تمہارے ہوں اور ہٹلر اور مسولینی بھی اپنی بادشاہتوں کو چھوڑ کر انہیں تمہارے قدموں میں ڈال دیں لیکن تمہارا خدا تم سے ناراض ہو تو تم طاعون کے چوہے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ جس کا خدا دشمن ہو اُس سے زیادہ ذلیل اور ناپاک وجود اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ل الفاتحة: ٧،٦ النور : ۵۶ ( الفضل ۲۵ جون ۱۹۳۶ء ) ے موضوعات ملاعلی قاری صفحہ ۱۶، مطبع مجتبائی دہلی ۱۳۴۶ھ میں اِتَّقُوا مَوَاضِعَ التُهُم کے الفاظ ہیں۔بخاری کتاب المغازى باب غزوة أحد ۵ متی باب ۸ آیت ۲۰ بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور ۱۹۹۴ ء ( مفہوماً) بخاری کتاب المغازى باب قول الله تعالى و يوم حنين (الخ)