خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 398

خطبات محمود ۳۹۸ سال ۱۹۳۶ء بتا تا ہوں ورنہ بیعت چھوڑ دینا بیعت میں رہ کر اطاعت نہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔وہ طریق جو میں نے متواتر بتایا ہے یہ ہے کہ ہمارے سامنے نہایت ہی اہم معاملات ہیں۔آج تک ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر ایک عدالت نے جو حملہ کیا تھا وہ بغیر بدلہ لئے قائم ہے۔میں ہر اُس حمدی سے جو سمجھتا ہے کہ وہ غیرت مند ہے کہتا ہوں اگر اس کی غیرت کسی اور جگہ ظاہر ہوتی ہے تو وہ سخت بے غیرت ہے۔اگر وہ واقعہ میں غیرت مند ہے تو کیوں اس کی غیرت اس جگہ ظاہر نہیں ہوتی جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر حملہ کیا جاتا ہے۔ابھی تک نہ اس فیصلہ کی تردید ہندوستان میں پھیلائی گئی ہے نہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہی کثرت سے لوگوں میں پھیلایا گیا ہے اور نہ اس کے ازالہ کیلئے گورنمنٹ کو مجبور کیا گیا ہے۔آجکل تو میں نے طریق ہی یہ اختیار کیا ہوا ہے کہ جب کوئی احمدی مجھے اس قسم کا خط لکھتا ہے کہ فلاں احمدی نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا تھا جس پر مجھے بڑا جوش آیا مگر میں نے پہلے آپ کو خبر دینا مناسب سمجھا۔تو میں اُسے لکھا کرتا ہوں میں یہ ماننے کیلئے ہر گز تیار نہیں کہ تم با غیرت ہو۔تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کی حفاظت کیلئے غیرت نہیں دکھائی تو میں یہ کس طرح مان سکتا ہوں کہ تم میں اس وقت غیرت پیدا ہو سکتی ہے جب تمہاری ذات پر کوئی حملہ کرے۔پس جب تک ہم اس فیصلہ کا ازالہ نہ کرائیں ، جب تک ہم گورنمنٹ کو مجبور نہ کریں کہ وہ انہی ہاتھوں سے جن ہاتھوں سے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک کی ہے اس ہتک کا ازالہ کرے اور اپنی غلطی کا اقرار کرے اُس وقت تک کسی احمدی کا اور معاملات میں اپنے آپ کو باغیرت کہنا بالکل جھوٹ ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم تمام آئینی طریق اختیار کر کے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت کو قائم کریں پھر اپنی عزتوں کے قیام کا سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے۔میں نے متواتر بتایا ہے کہ آئینی جدو جہد کے ذریعہ کام کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ عقل سے کام لیا جائے اور بشر طیکہ انسان اپنے نفس پر قابور رکھنے کی قابلیت رکھتا ہو۔میری یہ ہدایت جماعت والوں کو ہمیشہ سے معلوم ہے کہ ایسے مواقع جن میں فساد کا خطرہ ہو اُن میں کبھی لاٹھیاں وغیر لے کر نہیں جانا چاہئے۔احرار کے جلسہ کے موقع پر بھی اور بعد کے دوسرے مواقع پر بھی میں نے متواتر نصیحت کی ہے کہ ایسے موقع پر میرا وہ حکم کہ ہر احمدی کو ہر وقت اپنے پاس لاٹھی رکھنی چاہئے منسوخ سمجھنا چاہئے اور اپنی براءت ثابت کرنے کیلئے ایسی حالت