خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 384

خطبات محمود ۳۸۴ سال ۱۹۳۶ء۔وہ اس کے خلاف گواہی دے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے وہ کام نہیں کیا تھا۔تو عقائد کا تعلق چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتا ہے اس لئے وہاں خشیت اللہ سے کام لیا جاتا ہے لیکن اعمال کا چونکہ انسانوں سے تعلق ہوتا ہے اور انسانوں سے تعلقات کشیدہ بھی ہو جاتے ہیں اس لئے انسان عملی میدان میں بہت سی کمزوریاں دکھا دیتا ہے اور جہاں سچ بولنے کا سوال آتا ہے وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ سے منع کیا ہوا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ اس شخص نے فلاں وقت مجھے نقصان پہنچایا تھا میں اسے کیوں نقصان نہ پہنچاؤں۔یہ خیال نہیں آتا کہ سچ بولنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہے۔تو عقیدہ کے معاملہ میں ہر وقت خدا تعالیٰ کی ذات انسان کے سامنے رہتی ہے لیکن عمل کے معاملہ میں انسانوں کی ذات سامنے رہتی ہے اور اس وجہ سے بسا اوقات لالچ ، دوستانہ، رشتہ داری ، لڑائی ، بغض اور کینہ انسانی اعمال کے اچھے حصوں کو ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ان تمام وجوہ سے وہ عقیدہ کو اور نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے اور عمل کو اور نقطہ نگاہ سے۔وہ امانت کو اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہوا ہے بلکہ اس نقطہ نگاہ کے ماتحت دیکھتا ہے کہ اس کے خاص موقع پر امانت کی وجہ سے اس کے دوستوں یا دشمنوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔اسی طرح وہ سچ کو اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے سچ بولنے کا حکم دیا ہے بلکہ وہ اس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے کہ آیا اس سے اُسے یا اس کے دوستوں اور عزیزوں کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچے گا۔غرض عقیدہ کا چونکہ خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے اس لئے عقائد میں خشیت اللہ کام کرتی رہتی ہے اور اس سے عقیدہ کی اصلاح آسان ہو جاتی ہے لیکن اعمال چونکہ بندوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اس لئے اعمال میں خشیت اللہ کا خانہ خالی رہتا ہے اور عمل کی اصلاح بہت مشکل ہو جاتی ہے۔آٹھواں سبب یہ ہے کہ عمل کی اصلاح دنیا میں ہو ہی نہیں سکتی جب تک خاندان کی اصلاح نہ ہو لیکن عقیدہ کی اصلاح اپنے طور پر ہو جاتی ہے۔جب انسان یہ عقیدہ رکھے کہ خدا ایک ہے تو خواہ اس کے بیوی بچے یہ مانتے ہوں کہ خدا ایک نہیں دو ہیں ان پر اس عقیدے کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور نہ ان کے عقیدے کا اس کے عقیدے پر کوئی اثر ہوگا لیکن جب یہ کہتا ہے دیانتداری اختیار کی جائے تو دیانتداری اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس کی بیوی اور بچے اس کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔یہ چاہے کتنا ہی حلال مال کما کر لاتا ہولیکن اگر اس کی بیوی ہمسایوں کو