خطبات محمود (جلد 17) — Page 379
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۷۰ سال ۱۹۳۶ء چونکہ خطبہ کے پہلے حصہ نے زیادہ وقت لے لیا ہے اس لئے اس مضمون کا باقی حصہ میں اگلے جمعہ کے خطبہ میں اِنْشَاءَ اللهُ بیان کروں گا اس وقت میں پھر یہ بات دُہرانی چاہتا ہوں کہ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہم نے عقیدہ کے میدان میں عظیم الشان فتح حاصل کی ہے مگر عمل کے میدان میں بُری طرح پٹ رہے ہیں اور ضرورت ہے کہ عمل کی اصلاح میں بھی کامیابی حاصل کریں اور جب یہ دونوں دیواریں مضبوط ہو جائیں گی تو دشمن کسی راستہ سے بھی ہم پر حملہ نہ کر سکے گا، جب اس کیلئے ہمارے گھر میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہ رہے گا تو اسے سوائے ہتھیار ڈالنے اور ندامت سے سر جھکا لینے کے کوئی چارہ نہ رہے گا۔ اس معاملہ کے متعلق آپ میں سے ہر ایک کو خود بھی سوچنا چاہئے کہ جماعت کے عملی پہلو کی کس طرح اصلاح ہو سکتی ہے تا جب میں مضمون کے آخری حصہ پر پہنچوں تو آپ لوگ خود بھی اس کیلئے تیار ہو چکے ہوئے ہوں اور جو بات میں پیش کروں وہ باہر سے آئی ہوئی معلوم نہ ہو بلکہ آپ کا نفس محسوس کرے کہ یہ اس کے اندر سے ہی پیدا ہوئی ہے اور اسے فوراً قبول کرلے ۔ ( خطبہ کے بعد ایک اور دوست نے چند اور سوال خطبہ کی بناء پر کئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر پنڈت جی کے اس احسان کا یہ شکریہ ہے کہ جو اُنہوں نے ڈاکٹر اقبال صاحب کے مضمون کا جواب لکھ کر کیا تو لیگ کیوں شامل ہوئی؟ سب جماعت کیوں استقبال میں شامل نہ ہوئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ یہ اس احسان کا شکریہ ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ جو شخص ایسا فعل کرتا ہے اسے ہم جماعت کا دشمن نہیں کہہ سکتے اور اس وجہ سے اس کا استقبال کرنے والے کو بے غیرت قرار نہیں دے سکتے اور جب استقبال بے غیرتی نہیں تو صرف مہمان کا اعزاز رہ جاتا ہے جو نا جائز نہیں بلکہ مستحسن فعل ہے۔ باقی رہا دوسری جماعت کا سوال اگر ان میں سے وہ لوگ جو سرکاری ملازم نہیں اس استقبال میں شامل ہوتے تو یقیناً یہ بھی اچھی مثال ہوتی ۔ میرے نزدیک وہ بھی قابلِ اعتراض نہ ہوتا کیونکہ ایک دوسرے کے لیڈروں کا ادب جبکہ اس میں بے غیرتی نہ کا بے نہ ہو یقینا ایک اچھا فعل ہے۔ چنانچہ گاندھی جی جب ولایت گئے تھے تو ان کا استقبال خود انگریزوں نے نہایت شاندار کیا تھا اور ابھی حال ہی میں جب پنڈت جواہر لال نہرو صاحب انگلستان گئے تھے تو ان کا استقبال بھی انگریزوں نے کیا تھا۔ پس اگر انگریز گاندھی جی کا اور پنڈت جی کا