خطبات محمود (جلد 17) — Page 368
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۵۹ سال ۱۹۳۶ء انگریزوں کا اعزاز ہمیشہ سے کرتے ہیں حالانکہ وہ عیسائی ہیں اور عیسائیت کو مٹانا ہمارے مقاصد میں ہے۔ پس اگر عیسائیت سے اس قدر شدید اختلاف کے باوجود ہم انگریزوں کا اعزاز کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ نہر و صاحب کا اعزاز کرنا نا جائز ہو۔ اگر ہم ان لوگوں کا اعزاز تو جائز رکھیں جو خدا کو ایک نہیں بلکہ تین سمجھتے ہیں لیکن اس کا استقبال ہمارے نزدیک ناجائز ہو جو یہ کہتا ہے کہ ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہونا چاہئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگوں کو خدا کی بادشاہت سے نکالتے ہیں ان کا اعزاز تو ہمارے نزدیک جائز ہے لیکن جو انگریز کی بادشاہت سے ملک کو نکالنا چاہتا ہے اس کا جائز نہیں گویا خدا تعالیٰ کی بادشاہت سے بھی زیادہ ہمیں انگریز کی بادشاہت عزیز ہے۔ اگر باوجود اس ہتک کے جو انگریز یعنی عیسائی ہمارے اس خدا کی کرتے ہیں جس کے بالمقابل حضرت عیسی علیہ السلام کی ہستی مچھر کے برابر بھی نہیں ہم انگریزوں کا اعزاز کر سکتے ہیں تو پھر یقیناً نہر و صاحب کا استقبال بھی ہم کر سکتے ہیں ۔ اگر سیاسی اختلاف پر اعزاز ناجائز ہوتا ہے تو مذہبی اختلاف پر یقیناً ناجائز ہو جائے گا اور ہم پھر انگریزوں کا اعزاز بھی نہیں کر سکیں گے لیکن ہماری پچاس سالہ تاریخ گواہ ہے کہ باوجود عیسائیت کی شدید دشمنی کے اور باوجود اس کے کہ اسے مٹانا ہمارے مقاصد میں داخل ہے ہم انگریز سے دوستی جائز سمجھتے رہے ہیں، رکھتے رہے ہیں، رکھ رہے ہیں اور رکھتے جائیں گے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ہم پنڈت نہرو صاحب کا استقبال نہ کریں اور خواہ وہ اچھا کام ہی کرتے ہوں ان کی عزت نہ کریں۔ یہ بات عقل کے خلاف ہے اس لئے نیشنل لیگ نے جو کچھ کیا ٹھیک اور درست کیا اور بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔ اب اگر سیاسی طور پر پیشنل لیگ کا کوئی لیڈر کہیں جائے تو ہم کانگرسیوں سے امید کر سکتے ہیں کہ وہ اس کی عزت کریں اور اگر وہ نہ بھی کریں تو بہر حال اخلاقی لحاظ سے ہماری ان پر فتح رہے گی اور دنیا دیکھ لے گی کہ نیشنل لیگ نے باوجود اختلاف کے کانگرسی لیڈر کا استقبال کیا مگر کا نگر سیوں نے اس کے لیڈر کا اعزاز نہیں کیا لیکن ابھی یہ قیاسات بہت دور کے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسی مثالیں قائم کی جائیں تو آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے ساتھ مروت اور محبت کا سلوک پیدا ہوگا اور ہندوستانی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے لیڈروں کا اعزاز کرنا سیکھ جائیں گے اس لئے میرے نزدیک نیشنل لیگ کا یہ فعل قابل استحسان ہے۔