خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 355

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۴۶ سال ۱۹۳۶ء قرار دے لیں اُس کا مٹانا کوئی مشکل نہیں ہوتا لیکن جن گناہوں کو کچھ لوگ بڑا اور کچھ لوگ چھوٹا قرار دے رہے ہوں ان کا مٹانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ عقیدہ ہر ایک کے دل میں ہوتا ہے اور عقیدے کا تعلق دل سے ہے لیکن عمل کا تعلق ظاہر سے ہے۔ انسانی فطرت میں ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی ترقی کیلئے اس میں نقل کا مادہ رکھا ہوا ہے۔ اس نقل کے مادہ کا غلط استعمال کر کے کبھی انسان تباہ بھی ہو جاتا ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ ہمارے فائدے کیلئے رکھا ہوا ہے ۔ اگر نقل کا مادہ انسان میں نہ ہو تو وہ مثلاً زبان ہی نہ سیکھ سکے مگر چونکہ نقل کا مادہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں رکھا ہوا ہے اس لئے ماں باپ کو اردو یا انگریزی یا پنجابی بولتے دیکھ کر بچہ بھی وہی زبان بولنے لگ جاتا ہے اور تھوڑے ہی عرصہ میں کافی زبان سیکھ لیتا ہے۔ یوں کسی غیر زبان کے پڑھنے میں کتنے سال لگ جاتے ہیں لیکن ماں باپ سے سن کر نا فہم بچہ بھی چند سالوں میں کتنی مکمل زبان سیکھ جاتا ہے۔ ایک زمیندار ۱۵ سال میں بھی اتنی عربی نہیں پڑھ سکتا جتنی بچپن کی حالت میں ڈیڑھ دوسال کے عرصہ میں وہ پنجابی سیکھ لیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں یہ نقل کا مادہ اس لئے رکھا ہے کہ تا انسانی ترقی ہو اور علوم کا سیکھنا اسے بوجھ محسوس نہ ہو مگر یہی نقل کا مادہ بھی غلط طور پر بھی ل ہو کر بچہ کی عملی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے کیونکہ جس طرح بچہ اپنے ماں باپ سے زبان ہے اسی طرح وہ اپنے ماں باپ کوجھوٹ کو جھوٹ بولتے بولتے دیکھ کر کران ان سے جھوٹ کی بھی بھی عادت سیکھتا اور اور جھوٹ کی نقل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یا جب وہ اپنے ارد گرد کسی کو چوری کرتے دیکھتا ہے تو اُس کو دیکھ کر خود بھی چوری کرنے لگ جاتا ہے۔ بچہ میں یہ نقل کی عادت ویسی ہی ہے جیسے بندر میں نقل کی عادت ہے۔ بندر میں بھی نقل کا مادہ بڑی شدت سے پایا جاتا ہے ۔ بعض لوگوں نے بندر کی اس عادت کے متعلق ایک عجیب واقعہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کوئی ٹوپیوں کا تاجر تھا وہ بہت سی ٹوپیاں لئے ایک جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ آرام کرنے کیلئے ایک درخت کے نیچے سر پر ٹوپی رکھے سو گیا اور ٹوپیوں کی گٹھڑی پاس رکھ لی ۔ اتفاقاً اس درخت پر بہت سے بندر بیٹھے تھے جب بندروں نے دیکھا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی سر پر ٹوپی اوڑھے سویا ہوا ہے اور اس کے پاس بہت سی ٹوپیاں پڑی ہیں تو وہ نیچے آئے اور