خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 342

خطبات محمود ۳۴۲ سال ۱۹۳۶ء صلى الله ایک خیالی عزت کو قربان نہیں کرتا اور اپنی لڑکی کو ورثہ سے محروم رکھتا ہے۔ایسے شخص کی سب سے بڑی نیکی یہ نہیں کہ اُس نے اپنی جان رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کیلئے قربان کر دی بلکہ اس کی سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ وہ سو دنہ لے اور اپنی لڑکیوں کو جائداد سے ورثہ دے۔یہ صرف چند مثالیں میں نے دی ہیں ورنہ ہزاروں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی اور بدی ہر انسان کے ساتھ بدلتی چلی جاتی ہے۔پس جب تک یہ خیال دل میں رہے کہ فلاں بدیاں بڑی ہیں اور فلاں چھوٹی اور فلاں نیکیاں بڑی ہیں اور فلاں چھوٹی اُس وقت انسان نہ بدیوں سے پوری طرح بچ سکتا ہے اور نہ نیکیوں کو پوری طرح حاصل کر سکتا ہے۔دنیا میں بڑی بدیاں وہی ہیں جن کے چھوڑنے پر انسان کی قادر نہ ہوا اور جو عادت میں داخل ہو چکی ہوں اور بڑی نیکیاں وہی ہیں جن کا کرنا انسان کو دوبھر معلوم ہو۔اس نقطہ نگاہ کے مطابق کئی نیکیاں ایسی ہو سکتی ہیں جو ایک کیلئے بڑی ہوں مگر دوسروں کیلئے چھوٹی اور کئی بدیاں ایسی ہو سکتی ہیں جو ایک کیلئے بڑی ہوں لیکن دوسرے کیلئے چھوٹی۔پس جب تک اس خیال کو دل سے نکال نہیں دیا جاتا کہ چوری ایک بڑا گناہ ہے، زنا ایک بڑا گناہ ہے، قتل ایک بڑا گناہ ہے، غیبت ایک بڑا گناہ ہے اور ان کے علاوہ جتنے گناہ ہیں وہ چھوٹے ہیں بہ جب تک اس خیال کو دل سے نکال نہیں دیا جاتا کہ چند نیکیاں بڑی ہیں اور باقی چھوٹی مثلاً روزه ای بڑی نیکی ہے، نماز با جماعت بڑی نیکی ہے، زکوۃ بڑی نیکی ہے، حج بڑی نیکی ہے اور اس کے علاوہ جتنی نیکیاں ہیں وہ چھوٹی ہیں اُس وقت تک انسان کا عملی حصہ بہت کچھ کمزور رہتا ہے۔مگر عام مسلمانوں میں اس وقت یہ مرض پھیلا ہوا ہے اور وہ یہ کہ وہ بعض نیکیوں کو بڑی اور بعض کو چھوٹی سمجھتے ہیں۔مثلاً وہ سمجھتے ہیں کہ روزہ سب سے بڑی نیکی ہے اس خیال میں انہیں اس قد رغلو ہے کہ وہ نماز باجماعت چھوڑ دیں گے، زکوۃ ساری عمر نہیں دیں گے لیکن جو شخص روزہ نہ رکھے خواہ کسی بیماری اور مجبوری کی وجہ سے نہ رکھے وہ ان کے نزدیک کشتنی اور گردن زدنی ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں جبکہ آپ سفر کی حالت میں تھے امرتسر میں تقریر فرمارہے تھے کہ آپ کے گلے میں خشکی محسوس ہوئی۔ایک دوست نے یہ دیکھ کر آپ کے آگے چائے کی پیالی پیش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیالی ہٹادی