خطبات محمود (جلد 17) — Page 34
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۵ سال ۱۹۳۶ء خیالات کی یہ رو چلا دی کہ ہندوستانی کچھ نہیں جانتے اس لئے ہمارے لوگ بھی سمجھنے لگ گئے کہ ہمارے طبیب کچھ نہیں جانتے ۔ اس رو کے مقابلہ میں اگر ہم بھی ایک رو چلا دیں کہ ہم سے بہتر علاج اور کون کر سکتا ہے فلاں مرض میں دیسی طریق علاج کا انگریزی طریق علاج مقابلہ نہیں کر سکتا ، فلاں مرض میں انگریزی دوائیں ناکام رہتیں اور دیسی دوائیں اثر کر جاتی ہیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں لوگ دیسی دواؤں کے دلدادہ ہو جائیں۔ غرض دنیا میں جہاں حقائق لوگوں کی طبائع پر اثر کیا کرتے ہیں وہاں پرو پیگنڈا بھی ایک حد تک اثر کیا کرتا ہے اور بعض دفعہ تو حقائق کو پرو پیگنڈا کی رود با دیتی ہے اور میں سمجھتا ہوں ہمارا فرض ہے کہ جو ر وایسی چلائی گئی ہے جس نے علم کو جہالت میں تبدیل کر دیا ہے اس کے خلاف ایک رو چلا کر علم کو پھر علم کی صورت میں دنیا پر ظاہر کر دیں۔ اس طرح نہ صرف اپنے گزارہ کی صورت نکل سکتی ہے بلکہ اور ہزاروں آدمیوں کی بیکاری دور ہو سکتی ہے ۔ غرض اللہ تعالیٰ نے ہمت والوں کیلئے دنیا میں کامیابی کے اتنے راستے کھول رکھے ہیں جن کی کوئی انتہاء نہیں ۔ مزدوری کے پیشہ سے لے کر بادشاہ بننے تک کے رستے کھلے ہیں مگر انہی لوگوں کیلئے جو اپنے ملک سے باہر جاتے ہیں ۔ چنانچہ بادشاہت کے لحاظ سے ہٹلر کو دیکھ لو وہ گولفظاً بادشاہ نہیں کہلا تا لیکن اختیارات کے لحاظ سے کئی بادشاہوں سے زیادہ ہے۔ وہ جرمن کا نہیں بلکہ آسٹریا کا رہنے والا ہے۔ یونان میں وینزویلا ایک زمانہ میں سب سے زیادہ طاقتور رہا ہے مگر وہ یونان کا نہیں بلکہ ایک جزیرہ کا رہنے والا ہے جو ترکوں کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔ آئر لینڈ کا لیڈر ڈی ولیرا‘ آئر لینڈ کا نہیں بلکہ امریکہ کا ہے۔ اسی طرح اور بھی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بڑے بڑے آدمی جو بعض ملکوں میں ڈکٹیٹر، لیڈر اور بادشاہوں کی طرح سمجھے جاتے ہیں وہ ان ملکوں کے باشندے نہیں بلکہ باہر سے وہاں آئے لیکن انہوں نے وہاں کے رہنے والوں کی ایسی سچی خیر خواہی کی اور اپنے مفادکوان کے مفاد کے ساتھ وابستہ کیا کہ اپنے لئے ملک میں ایک خاص مقام حاصل کر لیا۔ انگریزوں کو ہی دیکھ لو یہ ہندوستان میں کس طرح آئے اور یہاں کے حکمران بن گئے ۔ پس علاوہ تبلیغی طور پر باہر جانے کے ہمارے نوجوان جنہیں خدا تعالیٰ سمجھ دے اور جنہیں یہاں عزتیں نہیں ملتیں ہندوستان کو چھوڑ کر غیر ممالک میں چلے جائیں ۔ اگر ان کے پاس روپیہ نہیں