خطبات محمود (جلد 17) — Page 338
خطبات محمود ۳۳۸ سال ۱۹۳۶ء سکیں اور لوگوں کی عملی زندگی میں اصلاح کر سکیں۔بہر حال یہ سوال اس قابل ہے کہ غور اور فکر کے ساتھ اسے حل کیا جائے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس سوال پر غور کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ اس سوال کا اطمینان بخش حل ہمیں مل جائے۔مگر پیشتر اس کے کہ میں اس سوال کولوں ایک اور امر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ عمل کی اصلاح عقیدہ کی اصلاح کی نسبت کیوں مشکل ہوتی ہے۔اس کے متعلق یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ یہ سوال مختلف حالتوں میں مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔بعض زمانوں میں عقیدہ کی اصلاح عمل کی اصلاح سے زیادہ مشکل ہو جاتی ہے اور بعض زمانوں میں عمل کی اصلاح عقیدہ کی اصلاح سے زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔جب مصلح کے پاس حکومت ہو تو اُس وقت عمل کی اصلاح جلدی ہو جاتی ہے اور عقیدے کی اصلاح دیر میں ہوتی ہے کیونکہ اس وقت ایسے منافق ساتھ شامل ہو جاتے ہیں جو گو عقید تا ساتھ نہیں ہوتے مگر حکومت سے فوائد حاصل کرنے کیلئے ظاہر میں عقیدہ بدل لیتے ہیں ایسی صورت میں ان کے باطنی خیالات قائم رہتے اور ان کی اصلاح بہت مشکل ہو جاتی ہے۔اسی لئے جب کسی مصلح کے پاس ظاہری حکومت ہو تو اُس کے زمانہ میں عقیدہ کی اصلاح عمل کی اصلاح کی نسبت زیادہ مشکل ہوتی ہے لیکن جب حکومت نہ ہو تو پھر عمل کی اصلاح کی دیر سے ہوتی ہے عقیدہ کی اصلاح جلدی ہو جاتی ہے کیونکہ حکومت نہ ہونے کی وجہ سے وہی لوگ ساتھ شامل ہوتے ہیں جن کے عقیدے درست ہو چکے ہوتے ہیں لیکن عمل میں چونکہ گہرے غور اور لمبی جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہر وقت نگرانی اور دباؤ نہ ہونے کی وجہ سے انسانوں سے بہت سی کمزوریاں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔پس یہ سوال مختلف زمانوں میں مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے جب مذہب کے پاس حکومت ہو تو اُس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عقیدے کی اصلاح عمل کی اصلاح سے کیونکر زیادہ کی مشکل ہے جیسے قرآن مجید میں آتا ہے کہ بعض لوگ ہمارے رسول کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں امنا۔ہمارے عقائد بالکل درست ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ مت کہو بلکہ تم اگر کہنا چا ہو تو کہو کہ اَسْلَمُنا سے ہمارا ظاہر درست ہے اور ہم ظاہر میں تمام احکام اسلام کو مان رہے ہیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں کے پاس حکومت تھی مگر آج وہ زمانہ ہے کہ جب لوگ کہتے ہیں کہ اَسلَمُنَ۔تو ہم