خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 335

خطبات محمود ۳۳۵ سال ۱۹۳۶ء يُصَلُّونَ الصَّلوةَ مؤمن وہ ہیں جو نماز پڑھیں بلکہ نماز کے ساتھ ہر جگہ يُقِيمُونَ کا لفظ آتا ہے اور اقامت ہمیشہ نماز با جماعت میں ہی ہوتی ہے اکیلے نماز پڑھنے میں نہیں ہوتی تو اس آواز کے جواب میں بجائے اس کے کہ جس طرح ہم کہتے ہیں حضرت عیسی فوت ہو گئے اور ساری جماعت متحد ہو کر کہتی ہے ہاں ہاں فوت ہو گئے انہیں فوت ہو نے دو کیونکہ ان کی موت قرآن مجید سے ثابت ہے، یہاں یہ آوازیں نہیں آتیں کہ ہاں ہاں یہ درست ہے نماز ہمیشہ با جماعت ہی پڑھنی چاہئے بلکہ یہ آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ یہ تو بڑا مشکل کام ہے دنیا کے کاموں میں ہم مشغول ہوتے ہیں نماز با جماعت ہم کس طرح ادا کر سکتے ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء بالکل معصوم ہوتے ہیں اور وہ گناہوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تو ہماری جماعت کے سب دوست مل کر کہنے لگ جاتے ہیں کہ بالکل درست انبیاء واقعہ میں معصوم ہوتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مؤمنوں پر زکوۃ فرض ہے اور ہر مومن مرد اور ہر مؤمن عورت جس پر زکوۃ کا دینا فرض ہے اُسے چاہئے کہ زکوۃ دے تو بجائے یہ آواز آنے کے کہ درست ہے درست ہے جو شخص زکوۃ دینے کے قابل ہونے کے باوجود زکوۃ نہیں دیتا وہ مسلمان ہی نہیں کہلا سکتا یہ آواز آنے لگ جاتی ہے کہ آجکل کے حالات کے لحاظ سے تو یہ بڑا مشکل کام طرح عقائد کی اصلاح کیلئے جب اور بیسیوں باتیں کہی جاتی ہیں تو اُن کی تائید اور تصدیق میں جماعت کی طرف سے آوازیں اٹھتی ہیں لیکن جب ہم کہتے ہیں سچ بولنا چاہئے تو ہمیں آواز سنائی دیتی ہے کہ پیچ اچھی چیز ہے مگر کیا کریں جھوٹ کے بغیر آجکل گزارہ نہیں ہوسکتا۔غرض عمل کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر جماعت متفقہ طور پر قائم ہو۔بڑی بڑی قربانیوں کو جانے دو جانی قربانیوں ، مالی قربانیوں اور جذبات کی قربانیوں کو ایک طرف رکھو، چھوٹی سے چھوٹی باتوں کو بھی اگر لے لیا جائے تو صاف طور پر ان کے متعلق بڑبڑانے کی آوازیں سنائی دیں گی۔سچ بولنا کتنی معمولی بات ہے مگر لوگ اس پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔پھر اور زیادہ بڑی باتوں کو جانے دومنہ پر کچھ بال رکھ لینا کونسی بڑی مصیبت ہے مگر لوگ داڑھی منڈ وادیں گے اسے رکھنا پسند نہیں کریں گے اور جب انہیں توجہ دلائی جائے تو کہہ دیں گے محمد ﷺ کا دین کے ساتھ تعلق تھا اُن کو اس سے کیا غرض اور اسلام کو اس سے کیا واسطہ کہ کوئی داڑھی رکھتا ہے یا نہیں رکھتا۔مجھ سے ہی