خطبات محمود (جلد 17) — Page 324
خطبات محمود ۳۲۴ سال ۱۹۳۶ء نام انہیں ملا مگر کام نہیں ملا کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں اور کافی تعداد میں موجود ہیں جو مساجد میں نماز نہیں پڑھتے اور یہ بھی واقعہ ہے کہ کسی پریذیڈنٹ یا سیکرٹری نے مجھے کبھی اطلاع کی نہیں دی کہ فلاں فلاں لوگ مسجد میں نماز نہیں پڑھتے جس کے معنے یہ ہیں کہ پریذیڈنٹ یا سیکرٹری نام رکھا کر بیٹھ گئے ہیں کام کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن نام کیا فائدہ دے سکتا ہے۔سب سے بڑا حکم اسلام میں نماز کا ہی ہے کیونکہ اسلام نما ز کو خدا تعالیٰ سے باتیں کرنا قرار دیتا ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نماز مؤمن کا معراج ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ مؤمن نماز کی حالت میں اپنے رب سے باتیں کرتا ہے۔جب ہم میں سے کچھ لوگ اپنے خدا کی سے باتیں کرنے کیلئے بھی تیار نہیں تو وہ اس کیلئے اور کیا قربانی کر سکتے ہیں۔اگر ہر محلہ کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری مساجد میں جاتے ہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ انہیں کیا مصیبت پڑتی ہے کہ وہ لوگوں کی نگرانی نہیں کرتے اور اس بات کا پتہ نہیں لیتے کہ فلاں فلاں آدمی مسجد میں نہیں آتا۔پھر انہیں کیا مصیبت پڑتی ہے کہ وہ میرے پاس ان کی رپورٹ نہیں کرتے۔مسجدوں میں باجماعت نماز نہ پڑھنے والے معمولی آدمی ہی نہیں بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جو جماعت میں باعزت سمجھتے جاتے یا با رتبہ سمجھتے جاتے ہیں مگر جماعت کے رتبہ دے دینے سے بھلا کیا بنتا ہے رتبہ وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملے۔رسول کریم ﷺ ایسے شخص کو جو مسجد میں نماز باجماعت ادا نہیں کرتا منافق قرار دیتے ہیں سے۔پس اگر آپ لوگ سب مل کر بھی اُسے لیڈر بنالیں تو اس سے کیا بنتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے قول کے مطابق تو وہ منافق ہے اور اس کی وہی حالت ہے جو حدیثوں کی میں رسول کریم ﷺ نے بیان کی کہ جب کوئی منافق مرجاتا ہے اور عورتیں اُس پر بین ڈالتی اور کہتی ہے ہیں کہ ہائے او بہادرا! ساری دنیا کا تُو ہی سہارا تھا ، تو فرشتے اُسے جوتیاں مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا واقعہ میں تو دنیا کا سہارا تھا؟ پھر وہ کہتی ہیں ہائے او میرے شیرا! تو فرشتے پھر اُسے جوتیاں مارتے ہیں اور کہتے ہیں کیا تو شیر تھا ؟ تیرے جیسا تو بز دل دنیا میں اور کوئی نہ تھا۔تو تمہاری دی ہوئی لیڈری اور اعزاز کیا کام دے سکتی ہے۔رتبہ وہ ہے جو خدا اور اُس کے رسول کی طرف سے ملے اور وہ رتبہ مسجد میں نماز با جماعت ادا نہ کرنے والے کا یہ ہے کہ وہ منافق ہے۔پس اگر تم سارے مل کر اُسے اپنا بادشاہ بنا لو یا اُسے اپنا لیڈر تسلیم کر لوتو تمہارے رتبے دینے سے اس کی قیمت