خطبات محمود (جلد 17) — Page 323
خطبات محمود ۳۲۳ سال ۱۹۳۶ء اپنا فرض سمجھتا ہے لیکن اگر صرف حکم کی تعمیل مد نظر ہو تو انسان اپنے آپ کو اس حکم کے الفاظ تک محدود رکھتا ہے۔نیتوں کے فرق کے ساتھ عمل میں بھی فرق آجاتا ہے۔جس نے حکم ماننا ہو وہ یہ دیکھتا ہے کہ الفاظ کتنے ہیں اور کیا ہیں۔اور جو اخلاص کے ماتحت کام کرتا ہے وہ سارے پہلوؤں پر غور کرتا ہے ہے اور کہتا ہے کہ اس حکم کے یہ معنے بھی ہونے چاہئیں اور یہ معنے بھی ہونے چاہئیں۔اسی طرح مغربیت کے مقابلہ کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے فتاویٰ موجود ہیں مگر کتنے احمدی ہیں جو ان پر عمل کرتے ہیں۔لفظی طور پر قربانی کا دعویٰ بہت سے لوگ کر بیٹھیں گے لیکن عملی طور پر ان چیزوں کی عظمت کا اقرار کرنے والے اور اپنے عمل سے ثبوت دینے والے بہت کم لوگ نظر آتے ہیں حالانکہ جب تک ہم اس بات میں کامیاب نہیں ہو جاتے دنیا کے سامنے نمایاں نتیجہ پیش نہیں کر سکتے۔نمایاں نتیجہ دنیا کے سامنے اسی صورت میں ہم پیش کر سکتے ہیں جب عملی زندگی میں بھی ہم اپنے آپ کو اسی دور میں لے جائیں جو آج سے تیرہ سو سال پہلے دنیا میں جاری ہوا ، جب ہماری شکلوں اور صورتوں کو دیکھ کر محمد ﷺ کے صحابہ کا زمانہ یاد آ جائے ، جب ہم اس راہ کو اختیار کر لیں جو صحابہ نے اختیار کی ، جب سچائی پر ہمارا قیام ہو جائے ، جب جھوٹ اور فریب سے ہم بچنے والے ہوں ، جب لڑائی اور جھگڑے کی روح کو ہم مٹادیں، جب اخلاق فاضلہ کا حصول ہماری زندگی کا مقصد ہو جائے ، جب اللہ تعالیٰ کی محبت ہر وقت ہمارے سامنے رہے اور جب اس کے قرب کے حصول کیلئے ہم ہر وقت جد و جہد کرتے رہیں تب ہم دنیا میں تغیر پیدا کر سکتے ہیں اور تبھی دنیا کے لوگ عملی زندگی میں ہماری نقل کریں گے۔مگر اب تو یہ حالت ہے کہ عقائد میں وہ ہماری نقل کر رہے ہیں اور عمل میں ہم ان کی نقل کر رہے ہیں حالانکہ وعظ ونصیحت کے لحاظ سے کوئی کمی نہیں ہوئی۔شاید ہی اہم مسائل میں سے کوئی مسئلہ ایسارہ گیا ہو جس کے متعلق کوئی لیکچر ، کوئی خطبہ، کوئی رسالہ یا کوئی تصنیف نہ ہو مگر شاید ہی کوئی ایسی بات ہو جس پر جماعت بحیثیت کی جماعت قائم ہو۔پہلی چیز تو نماز با جماعت ہی ہے۔ابھی تک میں دیکھتا ہوں کہ نماز با جماعت کی پوری پابندی نہیں کی جاتی۔میں نے محلہ وار مسجدوں کے ساتھ انجمنیں اسی غرض کیلئے بنوائی تھیں کہ وہ لوگوں کی نگرانی رکھیں مگر مسجدوں کے ساتھ انجمنیں تو بن گئیں لیکن انہوں نے کام کوئی نہیں کیا۔گویا