خطبات محمود (جلد 17) — Page 313
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۰۴ سال ۱۹۳۶ء تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ بھیک کا ٹھیکرا لے کر اس کے پاس مانگنے جاؤ ۔ مؤمن کی غیرت کا مقام بہت بلند ہوتا ہے وہ مر جانا پسند کرتا ہے مگر مانگنا پسند نہیں کرتا اور دوسرے کو اپنا سہارا بنانا گوارا نہیں کر سکتا ۔ تم کس طرح موحد ہو سکتے ہو جب کہ سمجھو کہ انگریز تمہاری جانیں بچائیں گے۔ اگر تمہاری جانوں کا انحصار انگریزوں پر ہے تو یہ آج بھی نہیں ہیں اور کل بھی نہیں ۔ انگریزوں کی حکومت بھی آخر انسانوں کی حکومت ہے جو ہمیشہ نہیں رہ سکتی ۔ ابی سینیا کا جو حشر ہوا ہے اس کے بعد خود انگریزی اخبار لکھ رہے ہیں کہ انگریزی حکومت لڑکھڑا رہی ہے اور شاید یہ پہلا موقع ہے کہ انگریزی حکومت کے وزیر اعظم نے یہ کہا ہے کہ میں اپنے نفس میں ذلت محسوس کر رہا ہوں ۔ پس آدمیوں پر انحصار رکھنا حماقت ہے تم اپنے نفسوں میں وہ قوت پیدا کرو کہ کوئی دشمن تم کو ہلاک نہ کر سکے اور ایسی طاقت اول ایمان کی طاقت ہے اور دوسرے اتحاد اور قوت عمل کی ۔ انسان جب ایمان لے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کا نگران ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی نہیں مرتا ۔ رسول کریم سے زیادہ صحابہ کو کس سے عشق ہو سکتا ہے چنانچہ جب آپ فوت ہوئے تو حضرت عمر تلوار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جو کہے گا رسول کریم فوت ہو گئے ہیں میں اسے قتل کر دوں گا سے ۔ حضرت ابو بکڑ اس وقت باہر گئے ہوئے تھے جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ آئے اور اندر گئے ،جسم پر سے کپڑا اُٹھایا ، ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا ۔ یعنی ایک تو جسمانی موت آئی ہے اس کے ساتھ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کی اُمت خراب ہو جائے ۔ اس کے بعد آپ باہر آئے اور کہا کہ لوگو! رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں جس طرح تمام پہلے انبیاء فوت ہو چکے ہیں مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا له فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مات ۔ سنو تم میں سے بعض سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں یہ شرک ہے اور عبادت ہے جو صلى الله علی صلى الله الله محمد رسول اللہ ﷺ کی عبادت کرتا ہے میں اسے خبر دار کرتا ہوں کہ آپ فوت ہو گئے ہیں ۔ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ ، لیکن جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اُس کا معبود زندہ ہے اور کبھی نہیں مر سکتا ۔ پس ہم تو ان لوگوں کے قائم مقام ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کو بھی اللہ تعالیٰ صلى الله کے مقابلہ پر کھڑا کرنا جائز نہیں سمجھا۔ ابوبکر نے تو اتنی غیرت دکھائی کہ کہا محمد رسول الل امحمد رسول الله ﷺ انسان