خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 312

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۰۳ سال ۱۹۳۶ء اپنے خطبات میں ذکر بھی کیا ہے وہ ان سب باتوں کو مبالغہ یا مخول اور کھیل ہی سمجھتے ہیں ۔ میں جب یہ حالت دیکھتا ہوں تو اگرچہ لفظوں سے تو نہیں کہتا مگر میرا دل چاہتا ہے کہ اگر جائز ہو تو خدا تعالیٰ سے کہوں کہ وہ جماعت کے ابتلاؤں کو اور بھی بڑھا دے تا ایسے دوستوں کے حواس درست ہوں ۔ خدا ابتلا ابتلاؤں کو اتنا بڑھائے کہ یہ بھائے کہ یہ سونے والے بیدار ہو جائیں اور پاگل عقلمند بن جائیں اور وہ سمجھیں کہ یہ تو پھر بھی غیر لوگ ہیں سعدی نے تو کہا ہے کہ ہمسایہ کی مدد سے جنت میں جانا بھی دوزخ میں جانے کے برابر ہے۔ میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکومت کا ابتلاء اسی وجہ سے آیا ہے تا اللہ تعالیٰ ہمیں بتادے کہ انگریزی حکومت میں بھی ایسے کل پرزے آسکتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچا ئیں گو یہ آج تھوڑے ہیں مگر کسی کو کیا معلوم کہ کل زیادہ ہو جائیں ۔ اگر آج حکومت پنجاب میں ہیں تو کل حکومت ہند میں بھی ہو سکتے ہیں۔ جو شخص کسی دوسرے کے سہارے بیٹھارہتا ہے اس سے زیادہ احمق اور بے حیا کوئی نہیں ہو سکتا ۔ انگریز خواہ کتنے اچھے کیوں نہ ہوں مگر ہم کیوں ان کے سہارے پر رہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اپنے والد صاحب کا ایک واقعہ لطف لے کر بیان کیا رتے تھے کہ آپ جب فوت ہوئے اُس وقت اسی سال کے قریب عمر تھی مگر وفات سے ایک گھنٹہ پہلے آپ پاخانہ کیلئے اُٹھے آپ کو سخت پیچش تھی اور پاخانہ کیلئے جا رہے تھے کہ رستہ میں ایک ملازم آپ کو سی پی تھی اور پاخانہ کیلئے جارہے تھے کہ نے آپ کو سہارا دیا مگر آپ نے اُس کا ہاتھ جھٹک کر پرے کر دیا اور کہا کہ مجھے سہارا کیوں دیتے ہو؟ اس کے ایک گھنٹہ کے بعد آپ کی وفات ہوگئی ۔ تو جب ایک معمولی مؤمن بھی کسی کا سہارا لینا پسند نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کی خاص جماعت کب ایسا کر سکتی ہے ۔ مؤمن تو ہر ایک ہو سکتا ہے خواہ وہ نبی کے ہزار ہا سال بعد ہو مگر تم میں تو ابھی کئی صحابہ موجود ہیں اور تم سب تابعی ہو پھر تم کس طرح یہ پسند کر سکتے ہو کہ کسی کا سہارا لو اور سہارا بھی اُن کا جو عیسائی ہیں اور جن کے مذہب کو مٹانے کیلئے تم کھڑے ہوئے ہو۔ تمہارا ہاتھ ہمیشہ اونچا ہونا چاہئے تم ان کی مدد تو کرو مگر ان کی مددمت لو۔ ایک اچھے شہری کی طرح تمہارا فرض ہے کہ ملک میں امن قائم کرو اور اگر حکومت کسی مصیبت میں ہو تو اس کی تائید کرو جس طرح تمہارا فرض ہے کہ اگر حکومت رعایا پر ظلم کرے تو رعایا کی مدد کرو مگر