خطبات محمود (جلد 17) — Page 298
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۸۹ سال ۱۹۳۶ء منافقوں کو پہچانا جاسکتا ہے۔ پس میرے لئے منافقوں کو پہچاننا ایسا ہی آسان ہے جیسے زرد اور سرخ رنگ کا معلوم کرنا اس لئے کہ قرآن مجید نے وہ اصول اور گر بتا دیئے ہیں جن سے منافقین کو پہچانا جاسکتا ہے۔ قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ شخص جو مؤمنوں کی مصیبت پر خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے دیکھا ! میں نے نہیں کہا تھا اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا وہ منافق ہے۔ قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ شخص منافق ہے جو قسمیں بہت کھاتا ہے، قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ لوگ جو مخلصین پر اعتراض کرتے اور مخالفین کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں وہ منافق ہیں ، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ وہ شخص جو قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتا اور لوگوں کو بھی ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور عذر تراشنے اور بہانے بنانے لگ جاتا ہے وہ منافق ہے، قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جو شخص اپنی پرائیویٹ مجالس میں نظام پر اعتراض کرے اور کہے کہ قربانیوں سے جماعت تباہ ہوتی جارہی ہے وہ منافق ہے، غرض کئی علامتیں ہیں جو قرآن کریم نے ہمیں بتائیں ۔ اگر کبھی منافقوں کے متعلق میں نے کوئی مضمون بیان کیا تو اس میں بہت سی علامتوں کا ذکر کروں گا مگر یہ موٹی موٹی باتیں ہیں اور ان سے اسی طرح منافقوں کو پہچانا جاسکتا ہے جس طرح روز روشن میں انسان ہر چیز کو دیکھ سکتا ہے۔ مگر وہ لوگ جو جذبات کے تابع ہوں جن کے دوست میں اگر کوئی عیب ہو تو وہ انہیں نظر نہ آئے لیکن اگر ان کا کوئی دشمن ہو تو فوراً وہ عیب انہیں اس میں نظر آنے لگے ۔ ان کی نگاہوں سے منافق پوشیدہ رہتے را وہ آنے لگے۔ ہیں صرف وہی منافقین کو پہچان سکتے ہیں جو ہر قسم کے بغض ، کینہ، حسد اور تمام اندرونی آلائشوں سے صاف ہوں ۔ تب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور ملتا ہے اور وہ نگاہ عطا کی جاتی ہے جس سے وہ منافقوں کو پہچان لیتے ہیں ۔ ان ہی منافقوں میں سے ایک نے یہ خبر میرے متعلق شائع کی ہے وہ مجھے چیلنج دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میاں صاحب ذرا ثابت تو کریں کہ جب سے وہ خلیفہ ہوئے ہیں انہوں نے جمعہ کے سوا کوئی نماز مسجد میں پڑھی ہو ۔ اس امر کو اس شخص نے اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ نا واقف سمجھے کہ اتنا جھوٹ تو کوئی بول نہیں سکتا ضرور یہ بات سچ ہوگی لیکن ہر قادیان کا رہنے والا اور اکثر لوگ جو باہر سے آتے رہتے ہیں جانتے ہیں کہ اس شخص نے اول درجہ کا افتراء کیا ہے ۔ ایسا افتراء کہ خود