خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 294

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۸۵ سال ۱۹۳۶ء خلیفہ صاحب کی بیویاں سفر میں ہمیشہ فرسٹ کلاس ہوٹلوں میں ٹھہرا کرتی ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سوائے ایک دفعہ کے وہ فرسٹ کلاس چھوڑ کبھی تھرڈ کلاس ہوٹلوں میں بھی نہیں ٹھہریں۔ وہ استثناء ۱۹۱۸ء کے شروع کا ہے اُس وقت میں سخت بیمار ہوا تھا اور ڈاکٹروں نے سمندر پر جانے کا مشورہ دیا تھا اُس وقت بمبئی جاتے ہوئے میرے ساتھ ناصر احمد کی والدہ اور امۃ الحی مرحومہ تھیں اُس وقت دہلی میں کسی احمدی کا مکان ہمارے قافلہ کو رکھنے کے قابل نہ تھا اس لئے کا رونیشن ہوٹل میں جو ایک معمولی ہندوستانی ہوٹل ہے ہماری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس کے سوا کبھی میری کوئی بیوی میری یاد اور میرے علم میں کسی فرسٹ یا سیکنڈ یا تھرڈ کلاس ہوٹل میں نہیں ٹھہری ۔ بیویاں تو الگ رہیں میں خود بھی ایک دفعہ کے سوا کسی فرسٹ کلاس ہوٹل میں نہیں شہر امگر وہ بھی تبلیغی ضرورتوں کے لئے قیام تھا۔ یہ وان تھا ۔ یہ واقعہ سفر لنڈن کا ہے جس کے دوران میں بڑے آدمیوں کی ملاقات کے خیال سے میں پیرس میں بعض ساتھیوں سمیت ایسے ہوٹل میں ٹھہرا تھا جسے فرسٹ کلاس ہوٹل کہا جاسکتا ہے مگر وہاں بھی جن کمروں میں ہم ٹھہرے تھے فرسٹ کلاس کمرے نہ تھے بلکہ تھرڈ کلاس کمرے تھے۔ اس کے علاوہ باقی جس قسم کے ہوٹلوں میں ہم ٹھہرے اور جس قسم کا ہم نے کھانا کھایا ان میں سے ایک ہوٹل کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اُس کا کھانا کھا کر مجھے آٹھ دن دست لگے رہے تھے ۔ پس ساری عمر میں مجھے اس فرسٹ کلاس ہوٹل میں ٹھہر نا یاد ہے اور وہ بھی تبلیغی ضرورتوں کیلئے تھا باقی کبھی فرسٹ کلاس ہوٹل میں میں نہیں ٹھہرا اور نہ کبھی میری بیویاں ۔ سوائے ۱۹۱۸ء کے ول میں میں نیں ظہر اور نہ بھی میری بیویاں۔ سوائے ۹۱۸ فرسٹ چھوڑ تھرڈ کلاس ہوٹل میں ٹھہریں۔ بہر حال کسی ہوٹل کو فرسٹ اور سیکنڈ کلاس ہوٹل سمجھنا بھی : اپنی اپنی نگاہ پر منحصر ہوتا ہے اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ اس دوست نے جھوٹ بولا ہے ممکن ہے انہوں نے دہلی والا واقعہ کسی سے سن کر ہی یہ بات کہہ دی ہو۔ یا پھر ممکن ہے معمولی ہوٹل کو بھی وہ اپنی نگاہ میں فرسٹ اور سیکنڈ کلاس ہوٹل سمجھتے ہوں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی چوڑھالا ہور کے پاس سے گزر رہا تھا اس نے دیکھا ہزاروں آدمی رو رہے ہیں۔ وہ حیران ہو کر پوچھنے لگا کیا بات ہے؟ لوگوں نے بتایا رنجیت سنگھ مر گیا ہے ۔ وہ کہنے لگا میں نے سمجھا خبر نہیں کیا بات ہو گئی ہے جب باپو جیسے ( یعنی والد جیسے ) مر گئے تو رنجیت سنگھ بیچارہ کون سے حساب میں تھا۔ گویا اُس چوڑھے نے اپنے