خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 286

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۷۷ سال ۱۹۳۶ء جھوٹ بول کر تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے بھائی بند اور ہم قوم گاؤ دیے اور احمق ہیں وہ جو کچھ کہیں گے وہ اُسے مان لیں گے خواہ وہ بات معقولیت سے کس قدر دور ہو اور کبھی اس پر غور نہیں کریں گے۔ مگر کیا تعجب کی بات نہیں کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ قادیان کے لوگوں کو کنگال کر دیا ، ان کا تمام مال ، ان کی تمام املاک لوٹ لیں ، وہ فاقوں مر رہے ہیں اور ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں اور دوسری طرف جب ان کی تمام دولت میرے پاس آجاتی ہے اور میں انہیں اچھی لوٹ لیتا ہوں تو میری جوان بیٹیاں ان کے گھروں پر مانگنے جاتی ہیں ۔ اگر یہ صحیح ہے کہ مال و دولت لٹا دینے کی وجہ سے قادیان کے لوگ کنگال ہو گئے ہیں اور ان کی دولت میں نے لوٹ لی ہے تو پھر میری لڑکیوں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ ان کنگالوں کے گھروں پر مانگنے جاتے ہیں صریح طور پر خلاف عقل بات نہیں تو اور کیا ہے۔ ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ کوئی میراثی تھا اس کے گھر رات کو چور آیا اس نے کمرے میں ادھر اُدھر تلاش کی مگر کوئی چیز نہ ملی ۔ جب سب طرف سے مایوس ہو گیا اور اُسے یہ ڈر بھی پیدا ہوا کہ کوئی جاگ نہ اُٹھے اور میں پکڑا جاؤں تو اس نے جلدی جلدی مکان میں گھومنا شروع کیا۔ اتفاقاً ایک جگہ روشندان میں سے چھن چھن کر چاندنی پڑ رہی تھی اُس نے سمجھا کہ یہ آٹا ہے جلدی میں اُس نے زمین پر چادر پھیلا دی مگر جب چاندنی کو آٹا سمجھ کر سمیٹنا چاہا تو اس کے پر چاہا تو دونوں ہاتھ خالی کے خالی آپس میں مل گئے ۔ اسی دوران میں اتفاقاً میراثی کی آنکھ بھی کھل چکی تھی اور وہ سب نظارہ بستر پر لیٹے ہوئے دیکھ رہا تھا جب اس چور نے آٹا سمجھ کر اسے اکٹھا کرنا چاہا اور دونوں ہاتھ خالی مل گئے تو میراثی ہنس کر کہنے لگا ” حجمان ایتھے تے دن نوں کچھ نہیں لبھدا تو رات کچھ نوں کی لبھدا ہیں ۔ یعنی میرے آقا ! اس گھر میں تو دن کو بھی کچھ نظر نہیں آتا آپ رات کو ، یہاں کیا تلاش کر رہے ہیں ۔ تو ایک طرف احرار کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے لوگوں کو لوٹ لیا اور ان کے مال ہضم کر لئے کنگال اور فقیر بنا دیا وہ بھوکے مرتے ہیں مگر انہیں کوئی نہیں پوچھتا اور دوسری طرف کہا جاتا ہے میری جوان بیٹیاں قادیان میں گھر گھر لوگوں سے مانگتی پھرتی ہیں حالانکہ جب بقول ان کے میں نے تو لوگوں کو لوٹ لیا ہے پھر میری بیٹیاں ان کنگالوں کے گھروں میں کچھ مانگنے کسی طرح جاسکتی ہیں ۔ مگر اس تضاد اور اختلاف کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ان کا مقصد محض 66