خطبات محمود (جلد 17) — Page 276
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء ہے کہ جس کا پہچاننا کسی کیلئے مشکل ہی نہیں ہوتا۔ہر شخص جانتا ہے کہ وہ جھوٹ ہے مگر وہ اسے بیان کرتے اور کھلے بندوں بیان کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہر شخص جو حالات سے معمولی واقفیت بھی رکھتا ہو سمجھ سکتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔مثلاً ابھی پچھلے چند دنوں میں ان مخالفوں کی طرف سے ایسے ایسے جھوٹ بولے گئے ہیں جو سرتا پا جھوٹ ہیں اور جن میں ایک فیصدی سچائی بھی نہیں پائی جاتی۔پھر جھوٹ بھی ایسی دلیری سے بولے گئے ہیں کہ یہ نہیں کہا گیا یہ سنی سنائی باتیں ہیں بلکہ یہ کہا گیا کہ یہ ہماری آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی باتیں ہیں۔مثلاً پچھلے دس بیس دن کے اندراند راحرار کی طرف سے جو جھوٹ بولے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ احمدیوں کے خلیفہ کی جوان بیٹیاں قادیان میں غیروں کے گھروں سے چندہ مانگتی پھرتی ہیں۔اب جھوٹ بنانے کو تو انہوں نے بنا لیا مگر یہ سمجھ میں نہ آیا کہ یہ اتنا کھلا جھوٹ ہے ہے کہ قادیان کا کوئی شخص اسے صحیح تسلیم کرنے پر تیار نہ ہوگا۔قادیان کی آبادی اس وقت آٹھ دس ہزار افراد پر مشتمل ہے، ان میں ہندو بھی ہیں، سکھ بھی ہیں، غیر احمدی بھی اور قریباً آٹھ ہزار احمدی ہیں اتنی بڑی جماعت کے سامنے انہوں نے یہ جھوٹ بول دیا اور اس کا نام مذہبی خدمت رکھ دیا۔کی پھر خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ لڑکیاں جوان ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی خیال کرے کہ شاید ی احمدیوں کے خلیفہ کی چھوٹی عمر کی بیٹیاں مانگتی پھرتی ہیں۔اس قسم کا جھوٹ بول کر دشمن یہ خیال کر لیتا ہے کہ قادیان کے لوگ اگر سمجھ بھی گئے کہ یہ جھوٹ ہے تو باقی دنیا تو حالات سے واقف نہیں وہ تو اسے درست مان لے گی۔مثلاً لا ہور کے لوگوں کو کیا پتہ ہے کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ، افتراء ہے یا امر واقعہ ؟ اور چونکہ اکثر ان میں سے ہمارے مخالف ہیں اس لئے ضروری ہے کہ وہ کہیں یہ سچ ہے۔اسی طرح گورداسپور کے لوگوں کو کیا ہے پستہ ، امرتسر کے لوگوں کو کیا پتہ ، پشاور کے لوگوں کو کیا پتہ کہ یہ افتراء ہے یا نہیں وہ لازماً ان باتوں کو سچ سمجھیں گے اور اس طرح جماعت سے نفرت پیدا ہو گی۔مگر یہ جو نظر یہ ہے کہ اگر قادیان کے لوگوں نے اسے جھوٹ سمجھ لیا تو کیا ہوا باہر کے لوگ تو اسے افتراء نہیں سمجھیں گے اس سے اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کا افتراء کرنے والے اپنی قوم کا معیار عقل بہت چھوٹا تسلیم کرتے ہیں اور اس طرح انہوں نے ہماری ہی ہتک نہیں کی بلکہ اپنی قوم کی ہتک بھی کی ہے اور انہوں نے