خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 273

خطبات محمود ۱۶ سال ۱۹۳۶ دشمنان احمدیت کی حیا سوز کذب بیانیاں (فرموده ۸ مئی ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔جب کبھی دنیا میں سچائی ظاہر ہوتی ہے تو جھوٹ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے۔اضداد ہمیشہ ہی ایک دوسرے کی طرف ایک کشش رکھتی ہیں۔جھوٹ کے مٹانے کیلئے سچائی آجاتی ہے ہے اور سچائی کا مقابلہ کرنے کیلئے جھوٹ آجاتا ہے اور یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کبھی رحمانی طاقتوں اور شیطانی طاقتوں میں صلح ہو سکے۔ہمیشہ ہی رحمانی طاقتیں شیطان کا زور توڑنے کیلئے دنیا میں پیدا ہوتی رہیں گی اور ہمیشہ ہی شیطانی طاقتیں سچائی کا مقابلہ کرنے کیلئے دنیا میں کھڑی ہوتی رہیں گی اور یہی تھی معیار در حقیقت کسی روحانی جماعت کی صداقت کا ہوتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں جھوٹ استعمال کیا لی جاتا ہے۔اس زمانہ کو جو ایک دو سال سے شروع ہے یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں دو جھوٹ جمع ہو گئے ہیں ایک طرف مخالفین صداقت کا جھوٹ ہے اور دوسری طرف منافقین کا جھوٹ ہے۔اس قسم کے دو جھوٹ بہت کم جمع ہوا کرتے ہیں ورنہ عام طور پر لوگوں کو ایک ایک جھوٹ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔کبھی انہیں مخالفوں کے جھوٹ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی انہیں منافقوں کے جھوٹ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جبکہ یہ دونوں جھوٹ جمع ہو جاتے ہیں جیسے