خطبات محمود (جلد 17) — Page 256
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۴۷ سال ۱۹۳۶ء صلى الله نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہوں ۔ غرض ایک ایک کام انسان کی کمر توڑ دینے کیلئے کافی ہے مگر محمد ﷺ کی زندگی میں یہ سارے کام بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بیسیوں کام ہمیں ایک جگہ اکٹھے نظر آتے ہیں ۔ محمد عا معلم بھی تھے کیونکہ آپ لوگوں کو دین پڑھاتے اور رات دن ھاتے، محمد ع حج بھی تھے کیونکہ آپ لوگوں کے جھگڑوں کا تصفیہ کرتے محمد ﷺ پریزیڈنٹ میونسپل کمیٹی کے فرائض بھی سرانجام دیتے کیونکہ بلدیہ کے حقوق کی نگرانی وصفائی کی نگہداشت اور پڑھا۔ صلى الله علوسه صلى الله چیزوں کے بھاؤ کا خیال رکھنا یہ سب کام آپ کرتے ، پھر رسول کریم مقتن بھی تھے کیونکہ آپ قرآن کریم کے احکام کے ماتحت لوگوں کو قانون کی تفصیلات بتاتے اور ان کا نفاذ کرتے ، اسی طرح رسول کریم جرنیل بھی تھے کیونکہ آپ لڑائیوں میں شامل ہوتے اور مسلمانوں میں راہبری فرماتے ، رسول کریم ﷺ با دشاہ بھی تھے کیونکہ آپ تمام قسم کے ملکی اور قومی انتظامات کا صلى الله صلى الله الله کی جنگ خیال رکھتے ، پھر اس کے علاوہ اور بھی بیسیوں کام تھے جو رسول کریم ﷺ کے سپر د تھے مگر آپ پ یہ سب کام کرتے اور اسی علاقہ میں رہ کر کرتے جس میں رہنے والوں کی سستی کی دلیل بعض ڈاکٹر یہ ریہ پیش کرتے ہیں کہ یہ ملیر یاز دہ علاقہ ہے۔ آخر آپ بھی تو ایشیاء کے ہی رہنے والے تھے یورپ کے رہنے والے تو نہ تھے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہمیں اپنی صحت کی درستی کا خیال رکھنا چاہئے اور ملیریا کو اس بات کا موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ ہماری تندرستی بر باد کرے مگر ملیریا بھی تو بعض کمزوریوں کی وجہ سے ہی آتا ہے یا روحانی کمزوریاں ملیریا کا شکار بنا دیتی ہیں یا جسمانی سستیاں ملیریا کا شکار بنا دیتی ہیں یا امنگوں کی کمی ملیریا کا شکار بنا دیتی ہے۔ دنیا میں امنگ بھی بہت حد تک بیماریوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ بے شک بداحتیاطی اور بد پرہیزی بھی بیماری لانے کا باعث بنتی ہے مگر امنگیں بیماری کو دبا لیتی ہیں لیکن وہ جو پہلے ہی اپنے ہتھیار ڈال چکا ہو اور کہے کہ ” آبیل مجھے مار اور بیماریوں کے مقابلہ کی تاب اپنے اندر نہ رکھتا ہو اس پر بیماری بہت جلد غلبہ پالیتی ہے۔ لیکن وہ جو اپنی امنگوں کو زندہ رکھتا ، اپنی قوتِ ارادی کو مضبوط کرتا اور اپنے حوصلہ کو بلند رکھتا ہے بیماری اس پر رکھتا غلبہ نہیں پاسکتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کی حکومت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ اگر بیماری اس پر حکومت کرنا چاہے تو وہ اس کی حکومت سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ پس میں تسلیم کرتا ہوں کہ بیماری کا علاج ہونا چاہئے مگر میں یہ ہرگز تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ یہ سست اور نکما بنانے کا وو