خطبات محمود (جلد 17) — Page 246
خطبات محمود ۲۴۶ سال ۱۹۳۶ اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے رکھا جائے گا گویا جس نگاہ سے اس نے دنیا میں اپنے کام کو دیکھنے کی کوشش نہ کی اسی طرح اس کا اعمال نامہ بھی ایسا گندہ ہوگا کہ وہ اسے دیکھنے کیلئے قوت برداشت اپنے اندر نہ رکھے گا اور اسی لئے اسے پیٹھ کے پیچھے رکھا جائے گا۔میں نے متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ ستی اور غفلت بہت بڑی لعنت ہے اور ہمیں اس لعنت کو بہت جلد اپنے آپ سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر ہم اس کو دور نہیں ہے کر سکتے تو ہمیں کم از کم اپنی اولادوں سے تو اس کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ڈاکٹروں نے کی اس بات پر بخشیں کی ہیں کہ ایشیائی لوگ سُست کیوں ہوتے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ چونکہ ایشیاء میں ملیر یا زیادہ ہوتا ہے اس لئے ملیریا کی وجہ سے ایشیاء والے سستی کا شکار رہتے ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں یہ بات غلط ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملیر یا سستی پیدا کرتا ہے اور جب ملیر یا کالی انسانی جسم پر اثر ہونے لگے تو بخار چڑھنے سے کئی دن پہلے ہی انسان کا کام کرنے کو جی نہیں چاہتا ہے اور پھر بخار کی حالت میں بھی جمائیاں آتی ہیں، اعضاء شکنی ہوتی ہے اور پژمردگی سی چھائی رہتی ہے ہے۔پس یہ صحیح ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایشیاء میں ملیریا نہایت سخت ہوتا ہے لیکن اسی ایشیاء میں وہ لوگ بھی ہوئے ہیں جنہوں نے دنیا میں اتنے مہتم بالشان اور حیرت انگیز کام کئے ہیں کہ دنیا کی ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔چنانچہ اسی ایشیاء میں رسول کریم ﷺے ہوئے ہیں جن کی زندگی پر جب اس لحاظ سے غور کیا جائے کہ وہ کیسی محنتی زندگی تھی تو ہمیں اس میں محنہ اعلیٰ نمونہ نظر آتا ہے کہ اُسے دیکھ کر حیرت آجاتی ہے۔دنیا میں ایک شخص جرنیل ہوتا ہے اور وہ جرنیلی کے کاموں میں ہی تھکا رہتا ہے، کوئی استاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ سکول کا کام اتنا زیادہ ہے کہ دماغ تھک جاتا اور جسم چور چور کی ہو جاتا ہے ، ایک حج ہوتا ہے اور وہ یہ شور مچاتا رہتا ہے کہ جی کا کام اتنا زیادہ ہے کہ میری طاقت برداشت سے بڑھ کر ہے ،ایک وکیل ہوتا ہے اور وہ یہ شکوہ کرتارہتا ہے کہ وکالت کا کام اتنا بھاری ہے کہ مجھے اس سے ہوش ہی نہیں آتا، ایک میونسپل کمیٹی کا پریذیڈنٹ ہوتا ہے اور وہ اس امر کا اظہار کرتا رہتا ہے کہ اتنا زیادہ کام ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا اسے کس طرح کروں ،ایک لیجسلیٹو اسمبلی کا سیکرٹری ہوتا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ قانون سازی کا کام اتنا بھاری ہے کہ میں