خطبات محمود (جلد 17) — Page 24
خطبات محمود ۲۴ سال ۱۹۳۶ء خراب سمجھنے لگ جائے گا پس ضرورت ہے کہ لوگوں کے نقطہ نگاہ کو تبدیل کیا جائے۔تم یورپ میں کی کوئی چیز لے کر جاؤ اُسے اگر خوبی سے پیش کرو گے تو لوگ اُس کی قدر کرنے لگ جائیں گے۔مثلاً فرض کرو تم یورپ میں پان لے کے جاؤ اور کہنا شروع کر دو کہ اس سے معدے کو تقویت حاصل ہوتی اور کھانا اچھی طرح ہضم ہوتا ہے اور نمونہ کے طور پر کسی عورت یا بوڑھے آدمی کو دے دو تو دوسرے ہی دن وہ کہنے لگے گا کہ آج کھانا مجھے اچھی طرح ہضم ہوا ایک پان مجھے اور دے دو۔تو دنیا میں لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا کوئی مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ جو چیز پیش کی جائے اُس سے لوگوں کو واقعہ میں فائدہ ہو۔کوٹ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی دیر پاوہی چیز ہوتی ہے جو نفع رساں ہو۔ہمارے ملک میں کئی مفید چیزیں موجود ہیں مگر مغربی اثر سے متاثر ہو کر خود ہمارے ملک کے لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔مثلاً ہماری ہندوستانی طب نہایت اعلیٰ درجہ کی باتیں اپنے اندر رکھتی ہے اور اب تک بعض امراض کا دیسی طب میں ایسا اعلیٰ اور مکمل علاج موجود ہے کہ یورپ والے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے مگر ایک خیالات کی رو تھی جو انگریزوں نے چلا دی کہ انگریزی دوائی اچھی ہے اور دیسی دوائی بُری۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانیوں نے بھی اپنی طب کو چھوڑ دیا اور انگریزی طب کے شیدا ہو گئے۔حالانکہ کئی امراض ایسے ہیں جن میں انگریزی دوائیاں ناکام رہتی ہیں اور دیسی دوائیاں کامیاب ہو جاتی ہیں۔مثلاً گردوں کی پتھری ہے کئی لوگوں نے مجھے بتایا کہ اس میں ڈاکٹری علاج سے انہیں فائدہ نہ ہوا اور ڈاکٹر آپریشن کے بغیر اس کا کوئی علاج نہ بتاتے تھے مگر یونانی دواؤں سے بغیر آپریشن کے فائدہ ہو گیا۔دو سال ہوئے میری لڑکی امتہ الرشید انتڑیوں کے درد سے بیمار ہوئی ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ اپنڈے سائٹس ہے اور اس کا آپریشن کے بغیر اور کوئی علاج نہیں۔لاہور کا جو سب سے بڑا سر جن ہے اُس نے کہا کہ تین چار دن تک آپریشن ہو جانا چاہئے ورنہ لڑ کی کی جان کا خطرہ ہے اور میرے کہنے پر انہوں نے نرسوں وغیرہ کا سب انتظام کر لیا لیکن اسی عرصہ میں مجھے خیال آیا کہ کسی ماہر طبیب سے بھی علاج کروا کر دیکھ لیا جائے اور لاہور کے مشہور طبیب حکیم نیتر واسطی صاحب کو میں نے بلوایا۔انہوں نے جو دوا تجویز کی اُس کی پہلی خوراک سے ہی درد میں خاصی تخفیف ہو گئی اور دوسرے دن تک درد بہت کم ہو گیا حالانکہ مریضہ دو ہفتہ سے شدید تکلیف میں مبتلا تھی۔پس بہت سی خوبیاں ہماری طب میں موجود ہیں مگر انگریزوں نے چونکہ