خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 237

خطبات محمود ۲۳۷ سال ۱۹۳۶ء صحیح نہیں سمجھتے تو نہ سمجھیں۔ہمارا عقیدہ ان پر اور ان کا ہم پر ہرگز حجت نہیں لیکن اس بات کو تو یورپین مصنفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ احمدیوں کے نزدیک مرزا صاحب کا درجہ وہی ہے جو عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسی کا ہے اور جس طرح آج ہم پر مقدمے کئے جاتے ہیں اسی طرح حضرت عیسی کی پر بھی ہوتے تھے۔انجیل کو اٹھا کر دیکھ لو ان پر بھی حکومت سے بغاوت کا الزام لگایا جا تا تھا۔ایک مقدمہ ان پر دائر ہوا اور حکومت نے ان کیلئے پھانسی کی سزا تجویز کی اور انہیں پھانسی پر لٹکا بھی دیا گیا۔عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق وہ فوت ہو گئے لیکن ہمارے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کی انہیں بچا لیا۔اس مقدمہ کو آج انہیں سو سال گزر چکے ہیں اور اس عرصہ میں اس فیصلہ کے رد میں سینکڑوں کتابیں لکھی جاتی ہیں۔اگر حکومت کے افسر مذہبی آدمی نہیں تو وہ برٹش میوزیم سے اس کے متعلق دریافت کریں کہ اس موضوع پر کتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور آج تک لکھی جا رہی ہیں۔ابھی ایک کتاب مجھے ملی جو ایک شخص ریورنڈ اے۔جے۔واکر (Rev۔A۔J۔Walker) نے لکھی ہے اور اس کا نام ہے Why Jesus was Crucified۔اس نے واقعات اور گواہیوں پر بحث کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی براءت ثابت کرے۔انگریز لوگ کہا کرتے ہیں کہ مشرقی مذہب کے دیوانے ہوتے ہیں۔تو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مغرب کے تھے مہذب لوگ جو نفس کو قابو میں رکھنے کا دعوی کرتے ہیں وہ تو انیس سو سال گزرنے کے بعد بھی اس کی مقدمہ کارڈ لکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور ہم مشرق کے مذہبی دیوانوں کو تازہ حملہ کا رڈ لکھنے سے بھی روکا جاتا ہے اور پھر ہم پر تو لوگ اعتراض کرتے ہیں اور ہمیں تبلیغ اور سلسلہ کی عزت کے بچاؤ کیلئے جواب کی ضرورت ہے۔عیسائیوں کو تو اس کی ضرورت بھی کوئی نہیں۔ان کی چونکہ ی حکومت ہے اور حکومت کو ہر کوئی سلام کرتا ہے اس لئے حضرت عیسی کی بھی لوگ عام طور پر عزت کی کرتے ہیں۔حتی کہ گاندھی جی جنہوں نے یونہی رسول کریم ﷺ کی تعلیم پر دو چار لکد سے رسید کر دیئے تھے اور کہہ دیا تھا کہ اسلام تلوار کے استعمال کی تعلیم دے کر غلطی کا مرتکب ہوا ہے۔حضرت عیسی کے متعلق انہوں نے بھی لکھ دیا کہ ان کی تعلیم محبت سے بھری ہوئی ہے۔تو جس کا کھائیے اُسی کا گایے کے مصداق حضرت عیسی پر تو اعتراض بھی کوئی نہیں کرتا اس لئے ان کی تعلیم کی حفاظت کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔دل میں خواہ کچھ ہو ظا ہر طور پر ان کی عزت ہی کی جاتی ہے