خطبات محمود (جلد 17) — Page 238
خطبات محمود ۲۳۸ سال ۱۹۳۶ء کیونکہ ان کے ماننے والوں کی حکومت ہے مگر مشکلات تو ہمارے لئے ہیں۔آج جس طرح یہ بات کی فیشن میں داخل سمجھی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توہین کی جائے۔پس حضرت عیسی جن کی عزت پہلے ہی محفوظ ہے اگر ان کے متعلق فیصلہ کا رڈ لکھنے کی انیس سو چھتیس سال بعد بھی ضرورت ہے تو بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق ۱۹۳۵ء میں صادر شدہ فیصلہ کی تردید کی ۱۹۳۶ ء میں ضرورت کیوں نہیں ؟ حکومت بتائے کہ عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری اور عالم فاضل آج تک کی بھی ایسی کتابیں کیوں لکھتے ہیں۔کیا وہ پاگل ہو گئے ہیں۔اس کی ضرورت یہ ہے کہ آج بھی کوئی نہ کوئی اعتراض کر ہی بیٹھتا ہے۔پس یہ ایک ایسا سوال ہے کہ شاید انیس سو سال بعد بھی اس کے رد کی ضرورت باقی رہے۔پس اس سوال کی اہمیت کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن باوجود اس کے حکومت کو مشکلات سے بچانے کیلئے گو میں نیشنل لیگ کے کام میں عام طور پر دخل نہیں دیا کرتا میں اس امر کیلئے تیار ہوں کہ اگر حکومت مجھے کوئی ایسا طریق بتا دے جس پر چل کر ہم اس کی فیصلہ کے ضر کو دور کر سکیں تو میں تردید و تنقید کے سلسلہ کو حکما روک دوں۔میرا خیال ہے کہ اگر حکومت ٹھنڈے دل سے غور کرے اور جھوٹا وقا ر اس کے دامنگیر ہو تو وہ اس سوال کو حل کر سکتی ہے اور میرے نزدیک اس کے دو طریق ہیں۔اول تو یہ کہ اس فیصلہ کی کو ضبط کر لے اس میں عدالت کی ہتک نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی اشاعت سے چونکہ فساد ہوتا ہے اس لئے ضبط کر لیا گیا اور حکومت کو جب خود کوئی ضرورت پیش آئے تو وہ ایسا کر لیتی ہی ہے۔ابھی کچھ عرصہ ہوا اسمبلی میں ایک ممبر نے تقریر کی جو اسمبلی کے رسالہ میں شائع بھی ہوئی وہاں سے اُسے ایک اخبار نے نقل کر دیا تو اُس سے ضمانت لے لی گئی اور جب اُس نے یہ ڈیفنس پیش کیا لی کہ حکومت نے خود اسے شائع کیا تھا تو اُسے جواب دیا گیا کہ حکومت کے رسالہ میں بے شک وہ شائع ہوئی لیکن تم کو ایسا کرنے کا اختیار نہ تھا۔پس جب اپنے دل پر چوٹ لگنے پر حکومت نے یہ طریق اختیار کیا تو وہ دوسروں کیلئے بھی یہی تدبیر اختیار کرسکتی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر حکومت کی دوسروں کی چوٹوں کو بھی اپنی ہی سمجھے تو سب جھگڑے مٹ جائیں مشکل یہ ہے کہ اپنی چوٹ پر تو وہ ہے حد سے زیادہ بھنا اُٹھتی ہے مگر دوسرے پر ایسا موقعہ آنے پر کہتی ہے کہ جانے دو۔اگر وہ اپنے دل کی میں ایسی تبدیلی کرے کہ ہر چوٹ کو اپنے دل پر محسوس کرے تو ملک میں بالکل امن و امان ہو جائے۔