خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 232

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۲۳ سال ۱۹۳۶ء کرایا جاتا۔ اور اگر وہ ایسا رویہ اختیار کرتی جس کے نتیجہ میں وقت ضائع ہوتا ہو تو اس سے کہہ دیا جاتا کہ آپ چونکہ دیر کرتے جاتے ہیں اس لئے ہم خود اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں آپ اب کچھ کریں یا نہ کریں ۔ میری یہ بھی رائے ہے کہ نیشنل لیگ نے حکومت سے گفت و شنید کرنے میں بلا وجہ سستی سے کام لیا ہے ۔ مجھے سخت افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے ذمہ دار لوگ اس ذمہ داری کو پوری طرح نہیں سمجھتے جو ان پر ہے۔ غالباً نو ماہ یا شاید سال کا عرصہ ہی ہو چکا ہے کہ میں نے صدرا نجمن احمد یہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ حکومت سے تصفیہ کرے کہ کیا وہ تحقیقاتی کمیشن کے ذریعہ موجودہ شورش کے ایام کے واقعات میں ہماری ، بعض افسروں کی اور احرار کی ذمہ داری کا فیصلہ کرنے کی طرف مائل ہے یا نہیں اور اگر وہ مائل نہ ہو تو پھر ایسے طریق اختیار کئے جائیں جو قانونی اور شرعی حدود کے اندر ہوں اور جن سے سلسلہ کے وقار کو قائم کیا جا سکے ۔ لیکن ابھی وہ مرحلہ گورنمنٹ آف انڈیا تک پہنچا ہے حالانکہ اس حد تک زیادہ سے زیادہ چار مہینہ میں پہنچ جانا چاہئے تھا۔ پہلے تو کئی ہفتے چھوٹے چھوٹے ڈرافٹ کرنے میں لگ گئے ، پھر کئی ماہ جواب کا انتظار کیا جا تا رہا حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ دو د ہفتہ کے بعد ریمائنڈر دے دیا جاتا اور پھر دو ہفتہ کے بعد بھی اگر جواب نہ ملتا تو سمجھ لیا جاتا کہ ملتا جواب نہیں آئے گا اور دوسرا قدم اٹھایا جاتا۔ اب مرحلہ وزیر ہند کا ہے اور اس میں بھی بلا وجہ دیر ہو رہی ہے۔ یہ ایک سچائی ہے جسے زمیندار بھی جانتے ہیں کہ لوہا گرم ہی کوٹا جاسکتا ہے۔ جس کی ما گرم ہی کوٹا جاسکتا ہے۔ صلاح لوہا کوٹنے کی ہو اور وہ اُس کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرے اسے کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کسی شکوہ پر لمبا عرصہ گزر جائے تو بالا افسر خیال کر لیتے ہیں کہ لوگوں کا غصہ دور ہو چکا ہے اب اس معاملہ میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے ۔ گویا ہمارے صدر انجمن کے کارکنوں نے بالا افسروں کو یہ کہنے کا موقع دے دیا ہے کہ اب گڑے مردے کیوں اکھاڑیں ۔ جس وقت کوئی کسی کا گلا دبا رہا ہو اور ابھی دم باقی ہو تو ہر ایک اس کی مدد کو پہنچتا ہے کہ شاید بچ جائے مگر جب وہ مر چکا ہو تو لوگوں کو جلدی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ پس جس ذہنی حالت میں حکومت کے بالا افسر دخل دیا کرتے ہیں اسے خود ہمارے کارکنوں نے اپنی سستی سے دور کر دیا ہے اگر صدرا انجمن ایسے وقت میں وائسرائے تک پہنچتی جبکہ واقعات ابھی تازہ ہی تھے تو دس فیصدی امکان