خطبات محمود (جلد 17) — Page 208
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۹۹ سال ۱۹۳۶ء جب اس نے یہ کام شروع کیا تو اپنا سارا رو پیدا اُس نے خرچ کر دیا مگر پھر بھی کامیاب نہ ہوا۔ اس کے بعد اُس نے بیوی کے زیور بیچنے شروع کر دیئے ، وہ روپیہ ختم ہوا تو دوستوں اور رشتہ داروں سے قرض لے کر کام کرنا شروع کر دیا ، جب بالکل اُس کی آخری نوبت پہنچ گئی تو بیس سال کی محنت ، تلاش اور جستجو کے بعد وہ تام چینی کے برتن بنانے میں کامیاب ہوا اور اس کے بعد اسی کام سے وہ کروڑ پتی ہو گیا۔ پس صنعت و حرفت کرو اور اپنی ہمتوں کو بلند کرو۔ تجارت اور صنعت و حرفت کے ذریعہ اس قدر آمد ہوتی ہے کہ نوکریوں میں اتنی آمد نہیں ہوتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ نوکریاں نہ کرو۔ جب تک حکومت روک نہیں دیتی اُس وقت تک بے شک نوکریاں کرو لیکن روک دے تو گھبراؤ نہیں بلکہ کہہ دو ملک خدا تنگ نیست پائے گدا لنگ نیست خدا تعالیٰ نے دنیا کو نہایت وسیع بنایا ہے۔ ایک جگہ اگر راستہ بند ہو تو وہ دوسری جگہ رزق کا راستہ کھول دیتا ہے اور ہمارا رزق تو خدا تعالیٰ کے عرش پر موجود ہے اور اُسی نے ہمیں دینا ہے ۔ پس اُسی سے مانگو اور دعائیں کرو۔ میں نے کوشش کی ہے کہ محبت، پیار، نرمی اور دلائل سے حکومت پر تمام باتیں واضح کر دوں لیکن اگر باوجود اس کے حکومت ہماری شکایتوں کو دور کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو دنیا گواہ رہے کہ ہم نے امن قائم کرنے اور حکومت سے تعاون کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے لیکن حکومت نے ہماری طرف محبت کا ہاتھ نہیں بڑھایا۔ اس کے بعد بھی اگر چہ میں کوشش کروں گا کہ ہماری طرف سے حکومت کے ساتھ تعاون ہو لیکن اگر اس حد تک تعاون نہ ہو سکے جس حد تک کہ ہم پہلے تعاون کرتے تھے تو آئندہ آنے والے افسروں کا یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ ہم سے سوال کریں کہ تم کیوں اب گزشتہ کی طرح تعاون نہیں کرتے کیونکہ آخر پچھلے لوگ پہلوں کے ہی وارث ہوا کرتے ہیں ۔“ الفضل ۴ را پریل ۱۹۳۶ء) فاطر: ۲۵ مسلم کتاب الايمان باب جواز الاستسرار بالايمان للخائف صفحہ ۷۵ حدیث نمبر ۳۷۷ مطبوعہ دار السلام رياض ٢٠٠٠ء الطبعة الثانية بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة فى الاسلام صفحہ ۲۰۶ حدیث نمبر ۳۶۱۲ مطبوعہ دار السلام رياض ١٩٩٩ء الطبعة الثانية