خطبات محمود (جلد 17) — Page 194
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۸۵ ز بر دست قو میں تبلیغ بھی کر لیں تو انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ سال ۱۹۳۶ء میں شملہ میں ایک دفعہ گیا وہاں گورنمنٹ کے ایک ممبر نے جلسہ کیا ، راجہ رام موہن رائے صاحب کی برسی تھی ، اس جلسہ میں انہوں نے برہمو سماج کی خوبیاں بڑے زور سے بیان کیں، گورنمنٹ کے کئی وزراء اس میں شامل ہوئے مگر ان سے کسی نے نہ پوچھا کہ وہ اس جلسہ میں کیوں صلى الله عليسة شامل ہوئے ۔ اس کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کی مدح و تعریف میں جب جلسے ہوتے ہیں تو جو ۔ احمدی ملازم ان میں شامل ہوتے ہیں ان میں سے بعض سے چھ چھ مہینے جواب طلبیاں ہوتی رہتی ہیں کہ تم کیوں جلسہ میں شامل ہوئے ؟ تو طاقتور اور کمزور میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے اور جو عمل طاقتو را اپنی طاقت کے گھمنڈ میں کر جاتا ہے وہی عمل غریب اور کمزور کیلئے کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہتے ہیں ایک بھیڑیا اور بکری کا بچہ کسی نالے میں سے پانی پی رہے تھے، بھیڑیا اوپر کی طرف تھا اور بکری کا بچہ پانی کے بہاؤ کی طرف۔ بھیڑیئے نے جب بکری کے بچے کا رم نرم گوشت دیکھا تو چاہا کہ اُس کا گوشت کھائے اور اُس کی نرم نرم ہڈیاں چہائے ۔ یہ سوچ کر اُس نے بکری کے بچے سے کہا نالائق ! تجھے شرم نہیں آتی میں پانی پی رہا ہوں اور تو پانی کو گدلا کر رہا ہے۔ وہ کہنے لگا آپ اوپر کی طرف ہیں اور میں نیچے کی طرف ، بھلا آپ کا پانی میرے پینے کی وجہ سے گدلا کیونکر ہو سکتا ہے۔ بھیڑیئے نے جو نہی یہ جواب سنا جھٹ کو دکر اُس کا گوشت نوچ ہوسکتا نے جونی یہ پہنا کو دکر نو لیا اور کہنے لگا گستاخ! آگے سے جواب دیتا ہے۔ یہ تو تمثیلی زبان میں ایک بات کہی گئی ہے۔ انگریزی قوم میں بھی اسی قسم کا ایک لطیفہ مشہور ہے۔ کہتے ہیں ایک افسر سپاہیوں کو پریڈ کرارہا تھا کسی سپاہی پر وہ ناراض تھا مگر اس پر گرفت کا اسے کوئی موقع نہیں ملتا تھا۔ پریڈ کراتے کراتے کہنے لگا سپاہی نمبر ۱۳ تمہارا قدم ٹھیک نہیں ۔ وہ کہنے لگا حضور ! میرا قدم ٹھیک ہے افسر نے یہ جواب سن کر کہا سارجنٹ نمبر ۱۳ کو گرفتار کر لو یہ آگے سے جواب دیتا ہے۔ تو اقلیتوں کیلئے یہ بات ہوا ہی کرتی ہے کہ ان کے حقوق کو آسانی سے دبالیا جاتا ہے اور ان پر سختی اور تشدد کیا جاتا ہے۔ پس اقلیتوں کیلئے سرکاری ملازمتوں میں تبلیغ کرنے میں بہت سی مشکلات ہوتی ہیں ۔ انہیں ہر وقت خوف رہتا ہے کہ کہیں افسر جواب طلبی نہ کریں اس لئے کیوں ہم وہ کام نہ کریں جن میں انسان اپنی روزی بھی کما سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت بھی کر سکتا