خطبات محمود (جلد 17) — Page 162
خطبات محمود ۱۶۲ سال ۱۹۳۶ء جارہی ہے۔چنانچہ یا خلیفہ وقت کی طرف سے اس کے خلاف اعلان ہوتا ہے یا صدر انجمن احمد۔کی طرف سے اس کے خلاف اعلان ہوتا ہے جن کا اعلان ساری جماعت کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔زیدا گر اعلان کرتا ہے کہ فلاں نے غلطی کی تو بکر کہہ دیتا ہے کہ میں اس غلطی کو تسلیم نہیں کرتا۔اس کے مقابلہ میں جماعت کا امام جب اعلان کرے کہ فلاں شخص نے غلطی کی تو کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ اس نے غلطی نہیں کی گویا یہ نفرت کا اظہار ساری جماعت کی طرف سے ہوتا ہے۔پس اس معاملہ میں جو طریق اختیار کیا ہے اگر باقی جماعتیں بھی وہی طریق اختیار کرتیں تو جی کبھی ہندوستان میں فساد نہ ہوتے۔مثلاً اگر ایک ہندو کے قلم سے کسی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کے بزرگوں کے متعلق نازیبا کلمات لکھے گئے ہوں اور ساری ہندو قوم اس سے نفرت کا اظہار کرے تو ی آئندہ نہ اُسے یہ جرات رہے کہ وہ مسلمانوں کے متعلق دل آزار کلمات استعمال کرے اور نہ اس کی ای اس حرکت سے مسلمانوں کے دلوں میں کوئی غصہ رہے۔اسی طرح اگر مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسی حرکت ہو کہ ان میں سے کوئی فرد کسی دوسری قوم مثلاً ہندوؤں کے بزرگوں کی ہتک کر دے اور پھر یہ بات مسلمانوں کے علم میں لائی جائے اور وہ اس کے خلاف اظہار نفرت کر دیں تو اس مسلمان کی بھی اصلاح ہو جائے اور ہندوؤں کا غصہ بھی بالکل فرو ہو جائے کیونکہ آخر جب کوئی مسلمان یا ہندو ایک کتاب لکھتا ہے تو اس کی غرض اس سے یہ ہوتی ہے کہ لوگ اسے خریدیں اور پڑھیں لیکن جب وہ یہ دیکھیں کہ غیروں نے تو اسے خرید نا نہیں کیونکہ اس میں ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور اپنے اس پر اظہار نفرت کر رہے ہیں تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اس کتاب کی تھی اشاعت بند ہو جاتی ہے اور آئندہ کیلئے اسے یہ حوصلہ نہیں رہتا کہ وہ کوئی منافرت انگیز تحریر شائع کی کرے۔چنانچہ بعض مسلمانوں کی طرف سے مذہب کے متعلق جب بعض ایسی کتاب میں لکھی گئیں جو تھی قابل اعتراض تھیں اور مسلمانوں نے ان کے خلاف آواز اُٹھائی تو ان مصنفین نے خود اپنے ہاتھ کی سے وہ کتابیں جلا دیں۔اس کی مشہور مثال مولوی نذیر احمد دہلوی کی کتاب اُمہات الا مہ ہے۔جب یہ پہلی دفعہ چھپی اور مسلمانوں نے اس کے خلاف شور مچایا تو اس کے مصنف نے خود اسے جلا دیا۔اب پھر دوبارہ چھپی تو مسلمانوں کے آواز اُٹھانے پر اُسے چھاپنے والوں نے جلا دیا۔تو ی اگر قوم متفقہ طور پر کسی کی سخت کلامی کے خلاف اظہار نفرت کرے تو مصنفین کو یہ جرات ہی نہیں رہتی