خطبات محمود (جلد 17) — Page 148
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۳۹ سال ۱۹۳۶ء ان باتوں میں ہم دخل نہیں دیتے جس طرح چاہو کر و پس انگریزی حکومت تو بری ہو چکی اُس نے کہہ دیا کہ بعض امور میں تمہیں اختیار حاصل ہے جس طرح چاہتے ہو ان کا فیصلہ کرو اس لئے وہ تمام باتیں جن میں حکومت کی طرف سے ہمیں اختیار حاصل ہے ان میں ہمیں اسلامی حکومت رائج کرنی پڑے گی۔ جو شخص احمدی رہنا چاہتا ہے اسے وہ حکومت قبول کرنی پڑے گی اور جو اس حکومت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں وہ خدا تعالیٰ کے حضور احمدی بھی نہیں کہلا سکتا ۔ پس ایک دفعہ پھر میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں کوئی ایسا طریق برداشت نہیں کر سکتا جو غیر اسلامی ہو خواہ مزدوروں کی طرف سے ہو یا مالکوں کی طرف سے، گاہکوں کی طرف سے ہو یا دُکانداروں کی طرف سے بلکہ اگر انہیں شکایت ہو تو وہ اسلامی طریق کے مطابق اس کے خلاف متعلقہ افسروں کے پاس درخواست کریں ۔ مثلاً مالک اگر کام کرنے والے نوکروں کی غیر معقول اجرت مقرر کر دیں اور کہہ دیں کہ اس سے زیادہ ہم ہرگز نہیں دیں گے تو اس حکم کے خلاف درخواست کی جاسکتی ہے یا اگر دُکاندار کو اپنی اشیاء کے نرخوں کی کمی کے متعلق شکایت ہو تو وہ بھی درخواست کر سکتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ جتھہ بازی کی صورت بنائیں گے اور دھمکی سے اپنی بات منوانے کی کوشش کریں گے تو خواہ وہ مزدور ہوں یا سرمایہ دار، دُکاندار ہوں یا گاہک ، دونوں سزا کے مستحق ہوں گے ۔ خلافت تو ایک محبت کا رشتہ ہے اور جو شخص خلافت کو تسلیم کرتا ہے وہ اپنے قو پنے قول و عمل ۔ سے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ میں خلافت اور اس کے نظام پر اعتبار کرتا ہوں اور جب وہ اعتبار کرتا ہے تو اپنی حق تلفی یا کسی شکایت کے پیدا ہونے پر ہمارے پاس آتا کیوں نہیں اور اگر آنا نہیں چاہتا تو معلوم ہوا اُسے اعتبار نہیں اور اگر اُسے اعتبار نہیں تو پھر اُس نے بیعت کیوں کی تھی؟ جب اسلام میں حکومت اور خلافت جمع تھیں اُس وقت تو کوئی شخص کہہ سکتا تھا کہ مجھے خلافت پر تو اعتبار نہیں لیکن کیا کروں حکومت بھی تو اسلامی ہے مگر اب تو خلافت الگ ہے اور حکومت الگ اور جب بھی کوئی شخص بیعت کرتا ہے اپنی مرضی اور منشاء سے کرتا ہے اور اس امر کا اظہار کر کے بیعت کرتا ہے کہ مجھے نظام سلسلہ پر اعتبار ہے۔ اس صورت میں اُس کا فرض ہے کہ وہ نظام سلسلہ پر اعتبار کرتے ہوئے اُس کے سامنے اپنا معاملہ پیش کرے اور اگر وہ پیش نہیں کرتا تو معلوم ہوا اُسے اعتبار نہیں