خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 128

خطبات محمود ۱۲۸ سال ۱۹۳۶ء اور جہاں حکومت مجھے اجازت دیتی ہے وہاں میں اسلام کی حکومت قائم کرنے کیلئے اپنا پورا زور لی لگا تا ہوں ، لگا تا چلا آیا ہوں اور انشاء اللہ لگاتا چلا جاؤں گا اس بات میں نہ مجھے کسی کا ڈر ہے نہ خوف۔جب مجھے نظر آتا ہو کہ قرآن کریم ایک معاملہ میں فلاں حکم دیتا ہے ، جب مجھے نظر آتا ہو کہ حکومت اس معاملہ میں مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں جس طرح چاہوں کروں اور جب مجھے نظر آتا ہی ہو کہ ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اقرار کرتا ہے کہ میں نے اپنا سب کچھ آپ کیلئے قربان کر دیا تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں اس معاملہ میں اسلامی حکم جاری نہ کروں اور کیا خدا تعالیٰ کے سامنے میرا عذر قابل سماعت ہوگا کہ میں نے اس معاملہ میں اسلامی حکم کو اس لئے جاری نہیں کیا کہ حکومت غیر تھی ؟ خدا تعالیٰ کہے گا بے شک حکومت غیر تھی مگر جب اسی حکومت نے تمہیں اجازت دے رکھی تھی کہ ان معاملات میں تم جو چاہو فیصلہ کرو اور پھر جب لوگوں نے اپنا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دے دیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ ہمیں ہر فیصلہ منظور ہے تو پھر تم نے کیوں اسلامی فیصلہ کا اجر نہ کیا اور کیوں اسلامی تعلیم اس معاملہ میں دنیا میں قائم نہ کی؟ جب فیصلہ ماننے کے والے کہتے تھے کہ ہمیں ہر فیصلہ منظور ہے اور ہم اسے ماننے کیلئے تیار ہیں ، جب حکومت کہتی تھی کہ بہت اچھا اس معاملہ میں ہم دخل نہیں دیتے تم جو چاہو فیصلہ کر لوتو پھر کونسی روک درمیان میں حائل تھی کہ تم نے اسلامی فیصلہ کا اجرا نہ کیا؟ پس اسلامی تعلیم کو دنیا میں قائم کرنا ، شریعت کے مطابق لوگوں کے جھگڑوں کا تصفیہ کرنا اور جرائم کی اسلامی تعزیر کے مطابق نا قابل دست اندازی پولیس معاملات میں سزا دینا ہمارا فرض ہے سوائے اُن باتوں کے جن میں حکومت ہمارا ہاتھ روک دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ہم ان معاملات میں تمہیں اپنا حکم چلانے نہیں دیتے اس کے ہوا ادنیٰ سے ادنی اسلامی حکم جاری کرنا اور اسلامی حکومت کا ہر نقشہ دنیا میں قائم کر دینا ضروری ہے مگر وہ حصہ جو حکومت نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے اُس میں ہم دخل نہیں دیتے اور نہ دے سکتے ہیں۔اگر دشمن ہماری اس کوشش اور جدو جہد کا نام اپنی حکومت قائم کرنا رکھتا ہے تو رکھے ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔ہم بھی کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں مگر وہ روحانی حکومت ہے اور ہم نے تو کبھی بھی یہ بات نہیں چھپائی کہ ہم دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم کھلے طور پر کہتے ہیں کہ ہم اسلامی حکومت دنیا پر قائم