خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 127

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۱۸ سال ۱۹۳۶ء رسول کریم ﷺ کو ایک رسی بھی زکوۃ میں دیتے تھے وہ دوبارہ نہ دینے لگیں ہے ۔ حضرت عمر کبھی کبھی حضرت ابوبکر کو پیار سے بڑھا کہا کرتے تھے وہ کہتے ہیں میرا خیال تھا کہ بدھا کمزور دل کا ہے مگر میرا خیال غلط تھا وہ تو ہم سب سے بہادر ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے جنگ کی اور واقعی جب تک زکوۃ کی ایک ایک رسی تک وصول نہ کر لی جنگ بند نہ کی ۔ اس جری اور دلیر ابو بکر کو کس تلوار نے مارا تھا ؟ اسی طرح حضرت عمر آنحضرت ﷺ کے جانی دشمن تھے اور آپ کو قتل کرنے کی نیت سے گھر سے چلے تھے کہ راستے میں کسی نے کہا کہ پہلے اپنے بہن اور بہنوئی کو تو مارو جو مسلمان ہو چکے ہیں ۔ چنانچہ آپ بہن کے گھر کی طرف چلے ، دروازہ اندر سے بند تھا اور ایک صحابی اندر بیٹھے اُن کو قرآن کریم پڑھا رہے تھے ۔ حضرت عمر نے دستک دی تو انہوں نے ڈر کے مارے صحابی کو اور قرآن کریم کے ورق کو بھی چھپا دیا اور پھر دروازہ کھولا ۔ حضرت عمر غصہ سے بھرے ہوئے اندر داخل ہوئے اور چونکہ قرآن کریم سن چکے تھے دریافت کیا کہ کون پڑھ رہا ہے؟ بہنوئی نے چھپانے کی کوشش کی تو اُس پر حملہ کر دیا اور کہا کہ تو صابی ہو گیا ہے؟ اُس زمانہ میں مسلمانوں کو صابی کہا جاتا ہے جیسے آجکل ہمیں قادیانی اور مرزائی کہا جاتا ہے ۔ ان کی بہن اپنے خاوند کی حفاظت کیلئے بیچ میں ہے۔ بہنا۔ آگئیں اور انہیں گھونسہ لگ گیا جس سے اُن کا خون بہنے لگا۔ بہن نے بھی جوش سے کہا کہ سنو ! ہم بہنے مسلمان ہو گئے ہیں تم سے جو کچھ ہو سکتا ہے کر لو ۔ چونکہ عرب کے لوگوں میں ذاتی شرافت تھی عورت سے جو ہو کر لو۔ کا خون نکلتا دیکھ کر غصہ فرو ہو گیا اور جھٹ معافی مانگنے لگے اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے بولے اچھا سناؤ تم کیا پڑھ رہے تھے؟ مگر بہن غصہ میں تھیں انہوں نے کہا کہ تم نا پاک مشرک ہو جب تک نہا کر نہ آؤ تم کو خدا کا کلام نہیں سنایا جا سکتا۔ چنانچہ آپ نے اُسی وقت غسل کیا۔ اس کے بعد اُس صحابی نے قرآن کریم سنانا شروع کیا دل میں نرمی پیدا ہو چکی تھی اس لئے خاتمہ سے پہلے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ وہاں سے اُٹھے اور خاموشی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے مکان کی طرف چلے ۔ آپ بعض صحابہ کے ساتھ مکان کے اندر بیٹھے وعظ و نصیحت کر رہے تھے کہ حضرت عمرؓ نے دستک دی۔ عمر چونکہ دلیری میں مشہور تھے اس لئے بعض صحابہ نے کہا کہ یہ شخص بہت شوریدہ سر ہے دروازہ نہ کھولا جائے ورنہ ضرور شرارت کرے گا۔ حضرت حمزہ بھی بیٹھے تھے انہوں نے کہا