خطبات محمود (جلد 17) — Page 126
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۱۷ سال ۱۹۳۶ء کرتے۔ یہی وہ تلوار تھی جس کے سامنے مکہ والوں کی گردنیں جھک جاتی تھیں ۔ مسلمانوں نے بھی ۔ نے؟ مجبوراً تلوار چلائی ہے اور اس کے نتیجہ میں بھی بہت سے دشمن مغلوب ہوئے لیکن ان کے چلانے صلى الله صلى الله صلى الله دوست والے اسی صداقت کی تلوار نے پیدا کئے تھے ، ان کے چلانے والے ابوبکر، عمر، عثمان اور علی تھے مگر کیا ابوبکر ، عمر اور عثمان اور علی کو لوہے کی تلوار نے قابو کیا تھا ؟ جس وقت آنحضرت ﷺ نے دعوی کیا تو حضرت ابوبکر تجارت کا مال لے کر کسی گاؤں میں گئے ہوئے تھے۔ واپس آئے تو کسی دو کے مکان پر بیٹھے تھے کہ اُس کی لونڈی نے کہا تمہارا دوست پاگل ہو گیا ہے وہ کہتا ہے کہ آسمان سے مجھ پر فرشتے اُترتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر کے دوست آنحضرت ﷺ ہی تھے۔ جب انہوں نے یہ بات سنی تو چادر کندھے پر رکھ لی ۔ اُس زمانہ میں عرب کے لوگوں کی روزمرہ کا لباس یہی ہوتا تھا ایک چادر اوڑھ لیتے تھے اور ایک باندھ لیتے تھے۔ چنانچہ آپ نے بھی چادر کندھے پر ڈالی اور چل پڑے۔ آنحضرت ﷺ کے دروازہ پر پہنچ کر دستک دی ۔ آپ باہر تشریف لائے تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ سنا ہے آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کیا یہ درست ہے؟ آنحضرت ﷺ نے اس خیال سے کہ حضرت ابوبکر کو ٹھوکر نہ لگے چاہا کہ اپنے دعوئی کی کسی قدر تشریح کر دیں مگر حضرت ابو بکر نے اس سے روک دیا اور کہا کہ آپ صرف ہاں یا نہ میں جواب دیں۔ اور جب آپ نے کہا کہ ہاں تو ابو بکر نے کہا کہ میں آپ پر ایمان لے آیا ہے ۔ انہوں نے نہ آیات چاہا کہ اپنے ایمان کو دلائل سے خراب کریں ۔ وہ صداقت کی تلوار کے مقتول بننا چاہتے تھے دلائل کی تلوار کے نہیں ۔ بے شک حضرت ابوبکر کی تلوار نے اسلام میں بہت کام کیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ۔ ابوبکر پر کونسی تلوار چلائی گئی تھی ۔ ابوبکر کوئی معمولی آدمی نہ تھے ۔ آنحضرت ﷺ کی وفار وفات کے بعد جب عام طور پر ارتداد کی رو پھیل گئی تو مکہ مدینہ اور ایک اور چھوٹے سے گاؤں کے سوا اور کہیں بھی با جماعت نماز نہ ہوتی تھی ۔ لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ۔ اُس وقت حضرت ابو بکر ہی تھے جنہوں نے اس رو کا مقابلہ کیا ۔ حضرت عمرؓ ان کے پاس گئے اور عرض کیا کہ اس وقت شورش بہت زیادہ ہو گئی ہے میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ ذرا نرم ہو جائیں آہستہ آہستہ سب کو ٹھیک کر لیا جائے گا لیکن حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ اگر یہ لوگ مدینہ میں گھس آئیں اور مسلمانوں کی عورتوں کو قتل کر دیں اور ان کی لاشوں کو کتے گھسٹتے پھریں تو بھی میں ان لوگوں سے صلح نہ کروں گا جب تک کہ جو