خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 123

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۱۴ سال ۱۹۳۶ء مغل فوجوں نے ہی ان کو استعمال کیا یورپ والوں نے ان کی نقل کی مگر افسوس کہ موجدوں نے اپنی ایجادوں کو خود بھلا دیا اور جنہوں نے اتباع کی انہوں نے ترقی دے کر کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ پھر توپوں میں ترقی شروع ہوئی حتی کہ موٹرز کی ایجاد ہوئی جو گولہ سیدھا نہیں بلکہ بیضوی رنگ میں پھینکتی ہے اور اس کے رستہ میں پہاڑوں کی اوٹ اور قلعہ کی دیواریں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں ۔ اس کا گولہ پہلے ہوائی کی طرح آسمان کی طرف جاتا اور پھر آ کر گرتا ہے۔ اس کے بعد بم ایجاد ہوئے ، پھر ٹینک نکل آئے یعنی لوہے کا جہاز جو زمین پر چلتا ہے چند لوگ اس میں بیٹھے ہوئے گولیاں چلا چلا کر مارتے جاتے ہیں باوجود یکہ جرمن قوم بہت ہوشیار اور لڑائی میں ماہر ہے لیکن ٹینک پہلے برطانیہ میں ایجاد ہوئے۔ میں نے اس نظارہ کی تفاصیل پڑھی ہیں ۔ کہتے ہیں کہ پہلا ٹینک جب جرمن افواج کے مقابلہ میں گیا تو ان کے ہوش و حواس اُڑ گئے اور اُن کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اس کا مقابلہ کس طرح کریں سوائے پاگلوں والی بہادری کے وہ کچھ نہ کر سکے ۔ جرمن فوجیں آتیں اور اُس کے سامنے گر گر کر مر جاتیں اور وہ دس بارہ آدمی بحفاظت اندر بیٹھے ہوئے گولیاں چلاتے جاتے ۔ انہوں نے اس کا آخری علاج اس طرح کیا کہ ان لاشوں کے ڈھیروں پر کھڑے ہوکر سوراخوں میں سے پستول چلا چلا کر اندر بیٹھے ہوئے آدمیوں کو ہلاک کیا اور جس وقت تک انہوں نے بھی ٹینک نہیں بنا لئے ان کا بہت نقصان ہوتا رہا۔ خشکی پر اس ترقی کے مقابلہ میں ہوا نے بھی جنگ میں کم حصہ نہیں لیا۔ ہوا میں اُڑ نے ہوا والے جہاز بھی لوگوں نے ایجاد کئے جنہوں نے زمینی فوجوں کو بالکل بے دست و پا کر دیا۔ اسی طرح سمندری جہازوں میں ترقی ہوئی ۔ پہلے وہ بادبانوں سے چلتے تھے ، پھر سٹیم کے ذریعہ چلنے لگے ، پھر معمولی ڈخانی جہازوں کی جگہ ٹبل شیس کروز رز ، ڈسٹرائرز ، مائن لیسرز ، تار پیڈو بوٹس اور آبدوز جہازوں نے لے لی اور ہر قدم پر ترقی ہونے لگی اور وہ قومیں ترقی کرنے لگیں جو ان سے مسلح تھیں ۔ ترکوں کے ساتھ دوستی کا دعوی کرتے ہوئے اٹلی نے طرابلس الغرب پر حملہ کیا اور ترکی کے ساحل سے صرف سو ڈیڑھ سو میل کے فاصلہ پر اس کے ملک پر قبضہ کر لیا لیکن ترک بالکل بے دست و پاتھے کیونکہ ان کے پاس جہاز نہ تھے۔ اب جنگی سامانوں نے اس سے بھی ترقی کی ہے اور گولے بھی بیکار ثابت ہو رہے ہیں ۔ اب زہریلی گیسیں نکلی ہیں جہاں ان کا گولہ پڑتا ہے سب