خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 117

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء کرتے۔یہی وہ تلوار تھی جس کے سامنے مکہ والوں کی گردنیں جھک جاتی تھیں۔مسلمانوں نے بھی مجبوراً تلوار چلائی ہے اور اس کے نتیجہ میں بھی بہت سے دشمن مغلوب ہوئے لیکن ان کے چلانے والے اسی صداقت کی تلوار نے پیدا کئے تھے ، ان کے چلانے والے ابو بکر، عمر، عثمان اور علی تھے مگر کیا ابوبکر، عمر اور عثمان اور علی کو لوہے کی تلوار نے قابو کیا تھا ؟ جس وقت آنحضرت ﷺ نے دعوی کیا تو حضرت ابوبکرہ تجارت کا مال لے کر کسی گاؤں میں گئے ہوئے تھے۔واپس آئے تو کسی دوست کے مکان پر بیٹھے تھے کہ اُس کی لونڈی نے کہا تمہارا دوست پاگل ہو گیا ہے وہ کہتا ہے کہ آسمان سے مجھ پر فرشتے اُترتے ہیں۔حضرت ابو بکر کے دوست آنحضرت ﷺ ہی تھے۔جب انہوں نے یہ بات سنی تو چادر کندھے پر رکھ لی۔اُس زمانہ میں عرب کے لوگوں کی روزمرہ کا لباس یہی ہوتا تھا ایک چادر اوڑھ لیتے تھے اور ایک باندھ لیتے تھے۔چنانچہ آپ نے بھی چادر کندھے پر ڈالی اور چل پڑے۔آنحضرت ﷺ کے دروازہ پر پہنچ کر دستک دی۔آپ باہر تشریف لائے تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ سنا ہے آپ نے دعوی کیا ہے کہ آپ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کیا یہ درست ہے؟ آنحضرت ﷺ نے اس خیال سے کہ حضرت ابو بکر کوٹھوکر نہ لگے چاہا کہ اپنے دعویٰ کی کسی قدر تشریح کر دیں مگر حضرت ابو بکر نے اس سے روک دیا اور کہا کہ آپ صرف ہاں یا ناں میں جواب دیں۔اور جب آپ نے کہا کہ ہاں تو ابو بکر نے کہا کہ میں آپ پر ایمان لے آیا ہے۔انہوں نے نہ چاہا کہ اپنے ایمان کو دلائل سے خراب کریں۔وہ صداقت کی تلوار کے مقتول بننا چاہتے تھے دلائل کی تلوار کے نہیں۔بے شک حضرت ابو بکر کی تلوار نے اسلام میں بہت کام کیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ابوبکر پر کونسی تلوار چلائی گئی تھی۔ابوبکر کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جب عام طور پر ارتداد کی رو پھیل گئی تو مکہ مدینہ اور ایک اور چھوٹے سے گاؤں کے سوا اور کہیں بھی با جماعت نماز نہ ہوتی تھی۔لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔اُس وقت حضرت ابو بکر ہی تھے جنہوں نے اس رو کا مقابلہ کیا۔حضرت عمران کے پاس گئے اور عرض کیا کہ اس وقت شورش بہت کی زیادہ ہوگئی ہے میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ ذرا نرم ہو جائیں آہستہ آہستہ سب کو ٹھیک کر لیا جائے گا لیکن حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ اگر یہ لوگ مدینہ میں گھس آئیں اور مسلمانوں کی عورتوں کو قتل کر دیں اور اُن کی لاشوں کو گتے گھسیٹتے پھریں تو بھی میں ان لوگوں سے صلح نہ کروں گا جب تک کہ جو