خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 94

خطبات محمود ۹۴ سال ۱۹۳۶ء جاہل ، اس غریب اور اس کمزور کو بھی جنت میں لے جاسکتا ہے جس نے دین کی کوئی خدمت نہ کی ہومگر سوال یہ ہے کہ وہ اپنے دوسرے مؤمن بھائیوں کے سامنے گردن کس رنگ میں اُٹھائے گا۔ایک مؤمن جس نے تمام عمر جہاد میں گزار دی اور مرنے کے بعد خدا تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کیا وہ کہے گا میں بے شک کمزور ہوں مگر خدا تعالیٰ نے مجھے جس قدر طاقتیں دیں ان کے مطابق میں نے اس کی راہ میں کام کیا اور اس نے مجھے جنت میں داخل کر دیا۔ایک مؤمن جس کی نے دنیا میں مالی قربانی کی اور مرنے کے بعد خدا تعالیٰ نے اسے جنت دے دی وہ کہے گا کہ میں بالکل کمزور تھا اور مال خدا تعالیٰ کا ہی عطا کردہ تھا مگر اُسی کی توفیق کے ماتحت میں نے وہ مال اس کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے جنت دے دی۔ایک اہلِ فن اور حرفہ جس نے دین کی خدمت کیلئے اپنی فتنی زندگی وقف کر دی اور مرنے کے بعد جنت میں داخل ہوا وہ کہے گا میں بے شک کچھ نہیں کر سکتا تھا اور یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان تھا کہ اُس نے مجھے فن اور حرفہ سکھا یا مگر میں ان سے تو اچھا رہا جنہیں خدا تعالیٰ نے فن اور حرفہ سکھایا اور انہوں نے اپنے رب کی آواز بھی سنی مگر اس پر عمل نہ کیا میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں نے خرچ کر دیا اور جوفن آتا تھا اس سے دین کی خدمت کر دی۔مگر جو مؤمن نہ اپنے پاس مال رکھتا تھا کہ مالی خدمت کرتا، نہ طاقت رکھتا تھا کہ جسمانی خدمات بجالا تا اور جہاد کرتا ، نہ علم رکھتا تھا کہ تبلیغ کر سکتا ، وہ مؤمن جس کو ایمان تو نصیب ہوا لیکن زبان نصیب نہ ہوئی کہ اس سے کام لے، وہ مؤمن جسے ایمان تو نصیب ہوا مگر ہاتھ نصیب نہ ہوئے کہ ان سے کام لے، وہ مؤمن جسے ایمان تو نصیب ہوا لیکن پاؤں نصیب نہ ہوئے کہ ان سے خدا تعالیٰ کی راہ میں کام لے سکے بے شک وہ جنت میں داخل ہو جائے لیکن بتاؤ وہ کیا کہے گا ؟ کیا وہ یہ کہے گا کہ میرے رب نے مجھے انسان تو بنایا لیکن انسانی کاموں کی توفیق نہ دی اور اب مجھے جنت میں لے تو آیا ہے مگر جنت کے حصول کے کاموں میں میرا کوئی حصہ نہیں۔کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ہمارا خدا جو غیور خدا ہے جو اپنے بندوں پر انتہائی رحم و شفقت کرنے والا ہے اس نے بندوں کو اسی حالت میں چھوڑ دیا ہوگا اور ان کی اس حسرت کا کوئی علاج نہ کیا ہوگا ؟ میں نے ۱۹۳۴ ء میں بتایا تھا کہ ہمارے خدا نے ایک تدبیر بتائی ہوئی ہے جس سے وہ اپا نچ جو ہاتھ نہیں ہلا سکتے ، وہ گونگے جن کی زبان نہیں، وہ غریب جن کے پاس مال نہیں ، وہ کمزور