خطبات محمود (جلد 17) — Page 84
خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۳۶ء ہے وہی اس سے نکلتی ہے۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اُس کی آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہوتی۔اور اُسے ماننا خدا تعالیٰ کی آواز کو مانا ہوتا ہے۔ان کے سوا سب مخلوق غلطیاں کرسکتی ہے، ناحق اور نا انصافی کر سکتی ہے اس لئے آپ لوگوں کا فرض ہونا چاہئے کہ عقل سے کام لیں۔اچھی بات کو ما نہیں اور بُری کورڈ کر دیں مگر نہ ماننا بھی اسی اصل پر ہو جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔مثلاً ماں باپ اگر کہیں کہ شرک کرو تو ان کی بات نہ مانو مگر دوسرے امور میں اُن کی تابعداری اور احترام کرو۔قرآن کریم میں حکم ہے کہ ماں باپ کو اُف تک نہ کہو۔حتی کہ اگر وہ شرک کی تعلیم دیں تو اسے نہ ما نو مگر یہ حق پھر بھی نہیں کہ انہیں اُف کہو۔پس نہ ماننے میں بھی وہ طریق اختیار کر و جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے اور جو ادب و احترام کا طریق ہے۔پس ہماری جماعت کو ہر قسم کے اخلاق سیکھنے چاہئیں۔خصوصاً جرات اور بہادری پیدا کرنی چاہئے۔مثلاً موجودہ حالات ہی ہیں۔چونکہ ہماری جماعت کی تربیت ایک خاص رنگ میں ہوئی ہے ہمارے دوست بعض باتوں میں گھبرا جاتے ہیں۔حکومت کے ساتھ پہلے ہمارے معاملات اور قسم کے تھے مگر اب حکومت کے ایک حصہ کا یا بعض افسروں کا رویہ بدل گیا ہے اور وہ ذاتی عداوتوں کی وجہ سے خواہ نخواہ ہمیں دق کرتے ہیں۔اگر چہ زمانہ بتا دے گا کہ وہ تمام طاقت اور قوت کے باوجود نا کام ہوں گے اور حکومت کے اعلیٰ افسروں کے سامنے ہی انہیں ذلیل ہونا پڑے گا مگر ابھی وہ زمانہ نہیں آیا۔ابھی وہ اپنے ڈنڈے پر نازاں ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ ڈنڈا لو ہے کو ٹیڑھا کر سکتا ہے مگر پانی کو نہیں کر سکتا ، اور ہوا کو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔جو شخص ہوا میں ڈنڈا مارے گا وہ دوسری طرف آکر اُس کے ہاتھ پر لگے گا۔مؤمن کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کثافتوں سے پاک کر دیتا اور پانی کی طرح لطیف بنادیتا ہے اس لئے جو شخص ہم پر ڈنڈا مارتا ہے وہ دراصل اپنے آپ کو ہی مارتا ہے۔اس کی مثال اُس افیونی کی سی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اُسے شبہ ہوا کہ اُس کے ہاں چور آتا ہے۔ایک دن وہ ڈنڈا لے کر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد اُسے پینک ، جو آئی تو اُس کا اپنا گھٹنا ہی سامنے آگیا اُس نے زور سے اس پر ڈنڈا مارا اور جب درد ہوا تو کہنے لگا کمبخت! مار تو گیا ہے مگر اسے بھی خوب لگی ہے۔تو جو حکام ہم پر حملہ کرتے ہیں ان کی حالت اُس افیونی کی سی ہے وہ ہمیں نہیں بلکہ اپنے آپ کو ہی ماررہے ہیں۔ان کی مثال بالکل اُس شیخ چلی کی