خطبات محمود (جلد 17) — Page 78
سال ۱۹۳۶ء خطبات محمود اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرو فرموده ۳۱ /جنوری ۱۹۳۶ء) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں آج گلے کی تکلیف کی وجہ سے زیادہ بول نہیں سکتا اس لئے اختصار کے ساتھ انسانی اخلاق کی ایک ایسی خصوصیت کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں جس کو زیر نظر رکھنا ہر انسان کیلئے ضروری ہے۔ہمارے ملک میں عام طور پر انسانی فطرت کی خصوصیات کا مطالعہ اور ان کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرنے کی بہت ہی کم عادت ہے۔بعض بڑے بڑے تعلیم یافتہ آدمی اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی کامیابی اور ترقی کا راز انسانی فطرت کی باریکیوں سے آگاہی حاصل کرنے میں مستور ہے۔اوّل تو لوگ ان سارے افعال سے ہی جو دماغ کرتا ہے واقف نہیں ہوتے اور اگر واقف ہوں تو چند اصطلاحات کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں۔مثلاً لوگ کی جانتے ہیں کہ انسان محبت کرتا ہے مگر یہ نہیں جانتے کہ محبت بیسیوں قسم کی ہوتی ہے اور محبت کا ظہور سینکڑوں رنگوں میں ہوتا ہے اسی طرح غصے کی بھی سینکڑوں اقسام ہیں۔لوگ جانتے ہیں کہ انسان کے اندر غیرت ہوتی ہے مگر یہ نہیں جانتے کہ غیرت کی کتنی اقسام ہیں، لوگ جانتے ہیں کہ جرات ایک صفت ہے مگر یہ نہیں جانتے کہ بہادری کی کتنی اقسام ہیں اور یہ کہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کے اندر بہادری کی بعض اقسام پائی جائیں اور بعض نہ پائی جائیں۔پس لوگ چند ناموں کو جانتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ایک ہی چیز کے نام ہیں ان کی قسموں سے وہ واقف نہیں ہوتے۔جس طرح