خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 77

خطبات محمود LL سال ۱۹۳۶ء خونریزیاں مٹ جائیں گی۔تم ہم سے ایک مرد اور عورت کا فرق نہیں کر سکتے۔تم ایک توپ کا گولہ چلاتے وقت یہ احتیاط نہیں کر سکتے کہ عورتیں اس کی زد سے بچی رہیں ، بچے محفوظ رہیں لیکن تلوار چلاتے وقت تم یہ سب احتیاطیں کر سکتے ہو۔تم دیکھ سکتے ہو کہ تمہارے سامنے عورت ہے یا مرد، لڑائی میں شامل ہونے والا ہے یا را بگیر اور مسافر لیکن توپ کا گولہ بلا تمیز سب کو مٹا دے گا۔عورتیں زد میں آئیں گی تو انہیں ہلاک کر دے گا، ہسپتال زد میں آئیں گے تو انہیں تباہ کر دے گا ، زخمی جو ہسپتال میں زخموں کی وجہ سے کراہ رہے ہوں گے انہیں بھی موت کے گھاٹ اُتار دے گا لیکن تلوار چلاتے وقت انسان سمجھتا ہے کہ میرے سامنے کون ہے اور میں کس کو ہلاک کر رہا ہوں۔پس اگر آج رسول کریم ﷺ کی اسی ایک تعلیم پر دنیا عمل کرے تو جنگ کا نقشہ بدل جائے اور رحم کا مفہوم کچھ اور ہو جائے لیکن چونکہ دنیا تو پوں اور بموں سے کام لیتی ہے اس لئے اسلامی حکومتیں مجبور ہیں کہ وہ دفاع میں تو ہیں اور بم استعمال کریں۔اسی طرح ہم روپیہ کی طرف اس لئے جاتے ہیں کہ دشمن روپیہ سے کام لے رہا ہے، وہ کفر کی اشاعت روپیہ سے کر رہا اور دنیا میں اسلام کے خلاف روپیہ کی مدد سے اعتراضات پھیلا رہا ہے۔ورنہ اسلام روپیہ کی قربانی کو ادنیٰ قربانی قرار دیتا ہے اور اصل قربانی وہ اس چیز کو قرار دیتا ہے جو دل اور دماغ اور آنکھ اور زبان اور ہاتھ سے ہو۔پس میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے اندر صحیح قربانی کا مادہ پیدا کرے ورنہ باتیں تو پادر ہوا ہے چیزیں ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ چیز بھی بے اثر ہو جاتی ہے اگر ماننے والے موجود نہ ہوں۔بخاری کتاب البیوع باب ماقيل في الصواغ المؤمنون: ۵۲ آل عمران: ۵۶ سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۱۶ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۱۰ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ ابوداؤد کتاب الادب باب في قتل الذر کے پادر ہوا: بے اصل۔خیالی۔فرضی ( الفضل ۳۱/جنوری ۱۹۳۶ء )