خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 766 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 766

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ نہیں ہوسکتا اسی طرح اس موقع پر بھی ہر قسم کی لغویات سے پر ہیز لازمی ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس جلسہ کی کیفیت عام جلسوں یا میلوں کی نہیں ہو سکتی۔میلوں میں لوگ اس لئے جمع ہوتے ہیں کہ خوشیاں منائیں مگر ہم یہاں اس لئے جمع ہوتے ہیں کہ اسلام کیلئے اپنے درد کا اظہار کریں۔ہمارے اجتماع کی غرض فریاد اور گریہ وزاری ہے پس قلب کی اس حالت میں اگر یہ سچی ہو اور ہم منافق اور بہانے بنانے والے نہ ہوں تو ان دنوں ہمیں ہر قسم کی فضولیات اور لغویات سے پر ہیز کرنا چاہئے۔رسول کریم ﷺ کی زندگی کا ہر واقعہ دوسرے سے بڑھ کر ہے اور ہر واقعہ ایسے انسان کی نگاہ کو جس کے دل میں محبت اور عشق کی چنگاری ہو اپنی طرف کھینچنے کیلئے کافی ہے مگر ان تمام نوادر ، سوانح اور واقعات میں سے جو آپ کو اپنی زندگی میں پیش آئے میرے مذاق کے مطابق لطیف تر اور جاذب تر واقعہ حنین کا ہے اور زیادہ روحانیت کو بڑھانے والا ہے۔اُس وقت بعض حدیث العہد اور نئے مسلمان ہونے والوں کی کمزوری اور بعض کفار کی خود پسندی اور خودی کی وجہ سے جو صرف اظہاریشان کی غرض سے مسلمانوں سے مل گئے تھے اسلامی لشکر پر ایک سخت ابتلاء آیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کفار سے زیادہ تھی مگر پھر بھی تمام اسلامی فوج تتر بتر ہوگئی اور رسول کریم ﷺ صرف ۱۲ صحابہ کے ساتھ چار ہزار تیراندازوں کے نرغہ میں گھر گئے۔حضرت ابو بکر اور بعض دوسرے صحابہ نے آپ سے عرض کیا کہ اب ٹھہرنے کا وقت نہیں گھوڑے کی باگ پھیریں اور واپس چلیں تا اسلامی فوج کو دوبارہ جمع کر کے حملہ کیا جائے مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ خدا کے نبی میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں موڑا کرتے اور گھوڑے کی باگ اُٹھائی اور اُسے ایٹر لگا کر اور بھی آگے بڑھایا اور کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ یعنی میں خدا کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں اور میری اس طاقت اور جرات کو دیکھ کر کہ میں چار ہزار تیراندازوں کے نرغہ میں ہونے کے باوجود آگے ہی بڑھتا جارہا ہوں غلطی سے یہ خیال نہ کرنا کہ مجھ میں خدائی صفات ہیں میں وہی عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔پھر آپ نے حضرت عباس کو جو آپ کے چا بھی تھے مخاطب کر کے فرمایا آپ کی آواز اونچی ہے زور سے آواز دیں کہ اے انصار ! خدا کا ی