خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 762 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 762

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کرتی چلی جائے گی ایک طبقہ ایسا پیدا ہو جائے گا جو پھر واپس نہیں جائے گا اور کہے گا ہمارے لئے یہی مقام اچھا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسلام ایسے تمدن کو قائم کرنا چاہتا ہے جو دنیا کے تمدن سے بالکل مختلف ہے اور یہ اس تمدن کی پہلی سیڑھی ہے۔آج اگر ہم اس تمدن میں تبدیلی نہیں کر سکتے تو جب ہمیں بادشاہتیں ملیں گی اُس وقت کیا کریں گے۔ابھی تو ہماری جماعت میں سے اکثر لوگ غریب ہیں لیکن جب ہم میں سے اکثر لوگوں نے محنت کرنی شروع کر دی اور سلطنتیں اور حکومتیں آگئیں تو پھر کتنی خرابیاں پیدا ہو جانے کا احتمال ہے پھر تو وہی چالیس چالیس کھانا کھانے والے لوگ آجائیں گے جن کا ایک ایک لقمہ چکھ کر پیٹ بھر جائے گا اور شکایت کریں گے کہ انہیں بھوک نہیں کی لگتی۔غریب بھوکے مر رہے ہوں گے اور ہماری جماعت میں سے وہ لوگ جن کے پاس بادشاہتیں ہوں گی ان کی کوشش یہ ہوگی کہ ساری دنیا کی دولتیں جمع کریں اور باقی ملکوں کو کنگال اور مفلسی بنادیں۔پس اس چھوٹی سی بات کی طرف اگر توجہ نہ کی گئی تو اس کے نتیجہ میں ہم دنیا کیلئے جنت نہیں دوزخ پیدا کرنے کا موجب ہو جائیں گے جیسے یورپ والے آج کل جہاں جاتے ہیں لوگ ان پر لعنتیں ڈالتے ہیں کہ وہ تمام ملکوں کی دولت جمع کر کے لے گئے لیکن اگر وہ اسلامی تعلیم پر عمل کرتے تو جہاں جاتے لوگ ان کے ہاتھ چومتے اور کہتے آگئے ہمیں غلامی کی قید سے آزاد کرانے والے پس یہ تقویٰ کی راہ ہے جو میں نے بتائی ہے اور تقویٰ بھی کوئی نہ کوئی ذریعہ چاہتا ہے آخر بغیر کسی ریعہ کے ہم تقومی کس طرح پیدا کر سکتے ہیں۔جو جو بدیاں دنیا میں پیدا ہیں اُن کے مٹانے کا کوئی نہ کوئی سامان چاہئے اور انہی سامانوں میں سے ایک یہ ہے کہ سادہ زندگی اختیار کی جائے اور کھانے پینے اور پہننے میں ایسا طریق اختیار کیا جائے جس میں اسراف نہ ہو اور جس میں ہمارے غریب بھائیوں کا حصہ شامل ہو اور امراء اور غرباء کے تعلقات میں کوئی ایسی دیوار حائل نہ ہو کہ غریب امیر کو بلانے سے ڈرے اور امیر غریب کی دعوت قبول نہ کر سکے بلکہ ایسا تمدن قائم ہو جائے ހނ کہ ہر شخص دوسرے سے خوشی سے ملے اور تکلفات جاتے رہیں اور یہ سب کچھ سادہ زندگی۔حاصل ہوسکتا ہے۔میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ ہمارے ملک میں پیروں نے لوگوں کو یہ عادت ڈال دی ہے کہ جہاں انہیں کوئی مرید ملے وہ اپنی جوتی اُتار دے اور میں دیکھتا ہوں کہ باوجود