خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 754 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 754

خطبات محمود ۷۵۴ سال ۱۹۳۶ دوستوں کی دعوت کریں لیکن وہ اس لئے ان کی دعوت نہیں کر سکتے کہ اگر دعوت کی تو شاید ان کی کی حیثیت کے مطابق انہیں کھانا نہ کھلا سکیں۔کئی امراء اس لئے اپنے غریب بھائیوں کی دعوت قبول نہیں کرتے کہ وہ ان کے مزاج کا کھانا انہیں نہیں کھلا سکیں گے۔لیکن اگر کھانے میں رسول کریم تی وی کی سنت کے مطابق وہی طریق جاری ہو جائے جو ہم تحریک جدید کے ماتحت اختیار کئے ہوئے کی ہیں کہ صرف ایک کھانا پکایا جائے تو نہ دعوت کرنے والے پر کوئی بار پڑتا ہے اور نہ دعوت قبول کرنے والا کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔دعوت کرنے والا سمجھتا ہے کہ میرا کوئی زائد خرچ تو ہونے نہیں لگا اور دعوت قبول کرنے والا سمجھتا ہے کہ گھر میں بھی تو میں نے ایک ہی کھانا کھانا ہے آؤ آج اس کی دعوت ہی قبول کر لیں اور وہ کون سا ایک کھانا ہے جس کے متعلق کسی کو دعوت کرنے کا تو خیال آ جائے مگر وہ تیار نہ کر سکے۔آخر وہ شخص جو فاقے کرتا ہوا سے تو دعوت کرنے کا خیال نہیں آ سکتا۔دعوت کا خیال جسے آسکتا ہے وہ بہر حال ایک کھانا تیار کر سکتا ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے ہوسکتا جسے دوسرے کی دعوت کرنے کا تو خیال آئے مگر ایک کھانا بھی نہ تیار کر سکے۔پس اس ذریعہ سے امراء اور غرباء کے تعلقات میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اسلام جس برادری کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے وہ قائم ہو جاتی ہے۔یہی حال لباس کا ہے لباس کی نظافت اور صفائی اور چیز ہے لیکن اگر کچھ لوگ اپنے گھروں کو کپڑوں سے بھر لیں اور روپیہ ایسی چیزوں پر خرچ کرنا شروع کی کر دیں جو ضروری نہیں۔مثلاً گوٹے کناریاں ہیں ، فیتے ہیں ، ٹھے ہیں تو ان چیزوں کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کی دولت ایسی جگہ خرچ ہوتی ہے جس جگہ خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ہماری شریعت نے اسی لئے روپیہ جمع کرنے سے منع کیا ہے جمع شدہ روپیہ پر زکوۃ لگا دی ہے اور زکوۃ لگا کر کہہ دیا ہے کہ تم بے شک روپیہ جمع کرو مگر ہم چالیس پچاس سال کے اندر اندر سے ختم کر دیں گے۔تو شریعت نے ہم کو روپیہ جمع کرنے سے اسی لئے منع کیا ہے کہ جو روپیہ جمع ہوتا ہے وہ لوگوں کے کام نہیں آسکتا اور دنیا کی تجارتوں کو نقصان اور کارخانوں کو ضعف پہنچتا ہے تو نہ شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ روپیہ ضائع کرو اور نہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ روپیہ کو اس طرح سنبھال کر رکھ لیا جائے کہ وہ لوگوں کے کام نہ آئے۔ان دونوں باتوں پر غور کرنے سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ یہی کہ سادہ زندگی بسر کرو اور روپیہ اس طرح خرچ کرو کہ لوگوں کو