خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 721 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 721

خطبات محمود ۷۲۱ سال ۱۹۳۶ نے انسان کیلئے ایسی ساعات مقرر کی ہیں کہ جن میں جو قربانیاں وہ کرے وہ ہمیشہ اُس کی نظر میں مقبول ہوتی ہیں مگر ان کیلئے ضروری شرط یہ ہے کہ قوموں میں سے مخلصوں کو آپس میں لڑنا نہیں چاہئے۔منافق کا گناہ ہمارے ذمہ نہیں مگر بچے مؤمن اگر لڑیں تو ان کا لڑ نا خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا نی موجب ہو گا لیکن منافق اگر فتنہ و فساد پیدا کرتا ہے تو چونکہ وہ باغی ہے اس کے افعال کی مؤمنوں کو سزا نہیں ملتی بلکہ اگر مؤمن اس سے بچتے رہیں تو انعام کے مستحق ہوتے ہیں۔پس میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ہمارے لئے لیلۃ القدر آ رہی ہے یعنی ایسے مصائب در پیش ہیں کہ جماعت کی روحانی اور اشاعتی زندگی خطرہ میں ہے اور اس لئے نصیحت کی تھی کہ آپس میں صلح کر لیں اور اس طرح خدا تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی خوشنودی حاصل کریں اس کی لئے اب جبکہ پھر رمضان کا مہینہ ہے اور لیلۃ القدر کی گھڑیاں قریب آرہی ہیں اور جبکہ تندرستوں کی اور حاضروں نے خدا تعالیٰ کیلئے روزے رکھے اور تکلیف اُٹھائی ہے میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس کی تکلیف کا فائدہ حاصل کرنے کیلئے ایسا طریق اختیار کرو جس سے وہ فائدہ حاصل ہوا کرتا ہے اور وہ طریق وہی ہے جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے یعنی یہ ہے کہ باہمی لڑائی اور جھگڑے چھوڑ دو تو لیلۃ القدر تمہیں یاد آ جائے گی اور نہ بھلا دی جائے گی۔یادرکھنا چاہئے کہ یہ بھولنا بھی دو قسم کا ہوتا ہے جب افراد کی باہم لڑائی ہو تو وہ محروم رہ جاتے ہیں باقی قوم کو وہ گھڑی مل جاتی ہے مگر آخری عشر میں تلاش کرنے سے لیکن اگر قوم کی باہم لڑائی ہو تو ساری قوم محروم رہ جائے گی اور تلاش کرنے سے بھی وہ حاصل نہیں ہوگی بلکہ جب وقت آئے گا لوگ سوتے ہی رہ جائیں گے اس لئے لڑائیاں اور جھگڑے چھوڑ دو اور خدا تعالیٰ کے دین کیلئے متحد ہو جاؤ۔ہاں یہ اتحاد منافق اور مخالف سے نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کیلئے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلّت مقدر ہو چکی ہے وہ تو جب تک اَذِلَّة گروہ میں شامل ہو کر خود معافی نہ مانگے اس وقت تک کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے بعد میں نے جو دوسری بات کہی تھی جب تک ایک ایسا شخص بقائے ادا نہ کرے تحریک جدید اسے کوئی نفع نہیں دے سکتی اس کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں۔دراصل جو شخصا۔پہلے حقوق ادا نہ کرتے ہوئے مزید وعدے کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر بھڑکا تا ہے اور دنیا کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہوا خدا کو ناراض کر لیتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کو کیا معلوم۔ہے