خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 698 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 698

خطبات محمود ۶۹۸ سال ۱۹۳۶ ہیں لیکن گھر میں جا کر کہتا ہے کہ یہ مسلے جب تک ملک سے نہ نکلیں ہمارا ملک آزاد نہیں ہوسکتا۔گویا عمل تو درست ہے مگر نیت درست نہیں۔اگر نیت درست ہو تو عمل کی اصلاح آسانی سے ہو سکتی ہے مگر چونکہ نیت کی اصلاح نہیں ہوتی اس لئے عمل کا فائدہ بھی نہیں پہنچتا اور وہ بیماری پھر عود کر آتی ہے کیونکہ عمل نیت اور ارادہ کے تابع ہوتا ہے۔پس میں جماعت کو آج یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ایک اہم کام ہمارے ذمہ ہے پھر ہر ایک کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی تعریف ہو۔ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ مجھے تو یہ خواہش نہیں لیکن مجھے تو یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ میرے دل میں تو یہ خواہش ضرور ہے کہ جب میں خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو وہ کہے کہ تو نے بہت اچھا کام کیا۔پس میں تو تعریف سے مستغنی نہیں ہوں۔میرا قلب اتنا فلسفی نہیں اسے کمزوری سمجھ لو یا کچھ ، مجھے تو ضرور یہ خواہش رہتی ہے۔پس اگر تم بھی کی چاہتے ہو کہ وہ ہستیاں تمہاری تعریف کریں جن کی تعریف قیمتی چیز ہے تو عمل کے ساتھ نیت بھی ہے درست کرو۔جہاں تک ہو سکے، عمل، قربانی اور ایثار سے کام لو اور پھر نیت درست رکھو۔اگر ایک پیسہ بھی دے سکتے ہو دے دو لیکن نیت یہ رکھو کہ خدا تعالیٰ دے تو ان گنت قربانیاں کریں۔جو شخص ایک روپیہ چندہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ لعنت ہے ایسے چندہ پر پیچھے پڑ کر لکھوا لیتے ہیں تو ایسا چندہ واقعہ میں ہی لعنت ہے۔جس کی نیست چھوٹی ہے مگر ظاہر میں عمل بڑا ہے اس کا عمل حقیقتا چھوٹا ہے لیکن جس کا عمل کم مگر نیت زیادہ ہے اس کا تھوڑا عمل بھی زیادہ ہے۔جس چندہ کے بعد دل میں یہ ہو کہ میں نے بہت تھوڑا دیا ہے وہ بہت زیادہ ہے لیکن جس چندہ کے بعد دل میں یہ ہو کہ بہت دے دیا ہے وہ کچھ نہیں۔یا جو شخص تبلیغ کیلئے ایک مہینہ لگا تا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اور مصیبت آپڑی ہے پہلے تو کہتے تھے چندے دو مگر اب کہتے ہیں وقت بھی دے دو اور کمائی بھی نہ کرو تو اس کے ذریعہ سے اگر کسی کو ہدایت بھی ہو جائے تو خدا تعالیٰ کی نظر میں اس کی کوئی وقعت نہیں مگر جو بجائے ایک ماہ کے ایک دن دیتا ہے مگر اس کے دل میں تڑپ یہ ہے کہ موقع ملے تو اور بھی وقت دوں اُس کی نیت عمل کی کمی کو پورا کر دے گی۔نیت کی کمی کو عمل پورا نہیں کر سکتا مگر عمل کی کمی کو نیت پورا کر دیتی ہے۔جس طرح ایمان کی کمی کو نمازیں اور روزے پورا نہیں کر سکتے مگر نماز وں اور روزوں میں جو کمی رہ گئی ہوا سے ایمان پورا کر دیتا ہے۔ظاہری طور پر ہی دیکھ لو کتنے بچے ہیں جو بے حد کر یہ دبلے پتلے