خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 677

خطبات محمود ۶۷۷ سال ۱۹۳۶ صل الله ہو گئے یہاں تک ہ محمد ے کے ذریعہ پھر وہ نور دنیا میں ظاہر ہوا۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ یہ روایت صحیح بھی کی ہے یا نہیں لیکن اس میں ہمارے لئے ایک سبق ضرور ہے خواہ وہ تصویری زبان ہی میں کیوں نہ ہو۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ روایت مواہب اللہ نیہ میں جو تاریخ کی مشہور کتاب ہے آتی ہے۔یہ قصہ خلاف عقل بھی نہیں ہے جو عام واقعات دنیا میں خدا تعالیٰ کے انبیاء کی شناخت کے متعلق ہوتے رہتے ہیں ممکن ہے انہی کی طرح اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو کشفی نگاہ دے دی ہو اور اُس نے وہ نور محمدی دیکھ لیا ہو جو دنیا میں ظاہر ہونے والا تھا لیکن بہر حال خواہ یہ واقعہ صحیح ہے یا غلط ہم اس سے سبق حاصل کر سکتے ہیں خواہ تاریخی لحاظ سے ہم اس کی صحت کی ذمہ داری نہ لے سکتے ہوں۔پس وہ صداقت دائگی ، وہ ازلی اور ابدی صداقت جو خدا تعالیٰ سے آتی اور خدا تعالیٰ کی طرف ہی چلی جاتی ہے تمام عالم پر مقدم ہے اور وہی اس دنیا کی پیدائش کا مقصد ہے اور در حقیقت وہی نور ہے جس کا ذکر سورہ نور میں اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں فرماتا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ 1 اللہ ہی آسمان و زمین کا نور ہے۔شاید تم کہو کہ جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نور ہے تو تم نے محمد ﷺ اور بعض خاص افراد کو اس کا حامل قرار کیوں دیا ہے ایک کو دوسرے سے کیا امتیاز صلى الله حاصل ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض لوگ اتنے کثیف ہوتے ہیں کہ ان میں سے خدا تعالیٰ کا وہ نور نظر نہیں آسکتا۔گویا ان کی مثال اس خول کی سی ہوتی ہے جس میں بجلی کی تار گزرتی ہے۔میں نہیں جانتا وہ لوہے کا ہوتا ہے یا کسی اور چیز کا لیکن بہر حال بجلی والے بجلی کی بعض تاروں پر ایک خول چڑھاتے ہیں اس خول کی وجہ سے وہ نان کنڈکٹر ہو جاتی ہے یعنی اندر سے ہزاروں لاکھوں گھوڑوں کی طاقت والی بجلی گزر رہی ہوتی ہے اور اوپر سے ایسی محفوظ ہوتی ہے کہ ایک چڑیا یا چوہیا بھی اگر بیٹھ جائے تو اُسے کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا۔پس بعض وجود نان کنڈکٹر ہوتے ہیں لیکن بعض وجود ایسے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنے اندر جذب کر کے اسے باہر بھیجنا شروع کر دیتے ہیں جیسے بجلی کی تاریں ہوتی ہے اور بجلی کو جذب کرتیں اور اسے دوسری چیزوں تک پہنچا دیتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللَّهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ اللہ تعالیٰ کا نور زمین و آسمان میں ہر جگہ موجود ہے فرق صرف یہ ہے کہ بعض نے اپنے آپ کو نان کنڈکٹر بنالیا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس نور سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے اور بعض اُس نور کو جذب کر کے دوسرے لوگوں تک بھی